اے این پی کے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی نثار باز خان کا بجٹ کے حوالے سے اہم پیغام

عوامی نیشنل پارٹی کے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی نثار باز خان نے وفاقی بجٹ کے حوالے سے جاری اپنے ویڈیو پیغام میں صوبے کے ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی اور وفاقی پالیسیوں پر سوالات اٹھا دیے۔

نثار باز خان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا دونوں پسماندگی، بدامنی، کمزور معیشت، بے روزگاری اور بدحالی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم بلوچستان حکومت نے اپنے صوبے کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کیا جس کے باعث اس کے ترقیاتی بجٹ میں کوئی کٹوتی نہیں کی گئی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے ترقیاتی بجٹ میں 109 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی ہے، جبکہ صوبے کے وفاق پر واجب الادا بقایاجات 5 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔

اے این پی رہنما نے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق کے ساتھ تعاون کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دفاعی بجٹ کے اضافی بوجھ کو خیبر پختونخوا کے ترقیاتی فنڈز سے پورا کرنا صوبے کے عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے عوام صوبائی بجٹ سے کیا توقعات رکھتے ہیں؟

نثار باز خان کے مطابق خیبر پختونخوا کئی برسوں سے بدامنی کا شکار ہے، جس کے باعث معیشت متاثر ہوئی، کاروباری سرگرمیاں محدود ہوئیں اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا، جبکہ مہنگائی نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے حقوق اور وسائل کے تحفظ کے لیے صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ نے وفاق کے سامنے مؤثر انداز میں مقدمہ کیوں نہیں لڑا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ وفاق کے ساتھ یہ تعاون کس کے مفاد میں اور کس کی ہدایت پر کیا گیا۔

Scroll to Top