خیبرپختونخوا حکومت نے پورے مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ صوبائی بجٹ 19 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ حکومت نے تمام قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ ہونے کی صورت میں ابتدائی طور پر تین ماہ کا بجٹ پیش کرنے کے خواہاں تھے، تاہم قانونی پیچیدگیوں اور آئینی تقاضوں کے باعث یہ آپشن قابلِ عمل نہ رہا۔
شوکت یوسفزئی کے مطابق پورے سال کا بجٹ پیش نہ کرنے سے صوبے کو مالی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا، اسی لیے پارٹی قیادت نے صوبے کے وسیع تر مفاد میں وزیراعلیٰ کو مکمل مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کی تجویز دی۔
دوسری جانب اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کی ہدایت پر صوبائی اسمبلی کا اجلاس، جو 17 جون 2026 کو دوپہر 2 بجے منعقد ہونا تھا، ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اب اسمبلی کا اجلاس 19 جون 2026 بروز جمعہ دوپہر 2 بجے منعقد ہوگا، جہاں صوبائی بجٹ پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
اس حوالے سے خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ نے باضابطہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبرپختونخوا کا مکمل سالانہ بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بجٹ پیش کرنے کے لیے باضابطہ گرین سگنل دے دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 19 جون کو خیبرپختونخوا کا مکمل سالانہ بجٹ پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی قیادت نے وزیراعلیٰ کو مکمل مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ان شاء اللہ تمام اراکین صوبائی اسمبلی بجٹ اجلاس میں شرکت کریں گے اور بجٹ کی منظوری کے لیے وزیراعلیٰ کا بھرپور ساتھ دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کی خواہش تھی کہ بجٹ پیش کرنے سے قبل بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کی جائے، تاہم اس مقصد کے لیے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی
چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا جس سے خیبرپختونخوا کے مفادات کو نقصان پہنچے۔ ان کے بقول عوامی فلاح، صوبے کی ترقی اور مالی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ پیش کیا جائے گا۔
بیرسٹر گوہر نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ صوبائی بجٹ عوامی توقعات کے مطابق ہوگا اور ترقیاتی منصوبوں، عوامی خدمات اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔





