خوشحال پختونخوابجٹ میں تعلیم، صحت اور داخلہ کے لیے 55 فیصد رقم مختص کئے گئے،شفیع جان اور مزمل اسلم کی پوسٹ بجٹ بریفنگ

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان اور مشیر خزانہ مزمل اسلم نے پشاور میں پوسٹ بجٹ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی بجٹ کے اہم خدوخال اور وفاق کے ساتھ جاری مالیاتی امور کی تفصیلات پبلک کر دی ہیں۔

مشیر خزانہ مزمل اسلم نے واضح کیا ہے کہ صوبے کا کل بجٹ تخمینہ 2 ہزار 122 ارب روپے ہے جس کا نام ‘خوشحال پختونخوا’ رکھا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال صوبائی محصولات کا 129 ارب روپے کا ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا گیا ہے جبکہ نئے مالی سال میں ٹیکسوں میں مزید کمی لائی گئی ہے جس میں آن لائن ہوٹل بکنگ پر ٹیکس 15 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد کرنا بھی شامل ہے۔

بجٹ میں عوامی فلاح اور اہم شعبوں کو ترجیح دیتے ہوئے کل حجم کا 55 فیصد حصہ تعلیم، صحت اور محکمہ داخلہ کے لیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ 58 فیصد حصہ تنخواہوں اور پنشن کی مد میں خرچ ہوگا۔ صوبائی حکومت نے صحت کارڈ کے لیے 50 ارب روپے، احساس مستحقین کے لیے 15 ارب روپے اور پولیس کے آلات کی خریداری کے لیے 14 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

اس کے علاوہ پشاور میں 50 کروڑ روپے کی لاگت سے فری وائی فائی سروس کے آغاز، ای بائیکس اور ای رکشہ اسکیموں سمیت گڈ گورننس روڈ میپ کے لیے 16.5 ارب روپے رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ بیرون ملک تعلیم اور روزگار کے لیے جانے والوں کو بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کا بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ، کم از کم اجرت 45 ہزار مقرر

وفاق کے ساتھ مالیاتی تنازعات پر بات کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے رانا ثناء اللہ کے اس بیان کی تردید کی کہ چاروں صوبے وفاق کو پیسے دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل اکنامکس کونسل کے ایجنڈے میں ایسا کوئی فیصلہ شامل نہیں تھا اور نہ ہی یہ ایسا فیصلہ کرنے کا مجاز فورم ہے۔

مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ سرپلس بجٹ کو خسارے میں دکھا کر وفاق کے ساتھ جان بوجھ کر مزاحمت کا تاثر دیا گیا ہے، حالانکہ صوبے نے کسی مزاحمتی حکمت عملی کے تحت بجٹ تیار نہیں کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر این ایف سی ایوارڈ بروقت ہو جاتا تو خیبرپختونخوا کو 300 ارب روپے مل جاتے۔

مشیر خزانہ نے فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کے مالیاتی بحران کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان اضلاع کے بجٹ میں 121 ارب روپے کا خسارہ ہے۔ وفاق نے ضم اضلاع کے جاری اخراجات کے لیے 95 ارب روپے جاری کیے ہیں، جبکہ ان کا اصل خرچہ 185 ارب روپے ہے، جو کہ گزشتہ سال مختص کردہ 66 ارب روپے کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

انہوں نے سرکاری ملازمین کے حوالے سے بتایا کہ دوسرے صوبوں کے برعکس خیبرپختونخوا میں کسی ملازم نے احتجاج نہیں کیا۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے اپنی پارٹی کے اندرونی معاملات پر بھی بات کی اور کہا کہ سخت مزاج ہونے کی وجہ سے پارٹی کے کچھ دوست انہیں ناپسند کرتے ہیں جبکہ بجٹ کے فیصلوں پر پارٹی میں پیدا ہونے والی غلط فہمیاں بھی اب دور کی جا رہی ہیں۔

Scroll to Top