ایک طرف امریکا ایران مذاکرات جاری، دوسری جانب صدر ٹرمپ کے جارحانہ بیانات نے نئی بحث چھیڑ دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور علاقائی تنازعات پر اہم بیانات دیے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی حکام سے گفتگو کی اور انہیں خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز بند کی گئی تو ایران کے لیے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر امریکا مستقبل میں آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں اور 60 روزہ مدت مکمل ہونے کے بعد وہ کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔

غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت حماس زیادہ بڑے مسائل پیدا نہیں کر رہی لہٰذا بات چیت کے عمل کو آگے بڑھنے دینا چاہیے۔

لبنان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ بات مایوس کن ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکا، اسرائیلی کارروائیاں زیادہ تر عمارتوں کی تباہی تک محدود رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عسکری میدان کے فاتح، سفارتی محاذ کے مؤثر کردار، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ ایران کو مذاکرات کی میز پر بٹھا دیا

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کی مبینہ ناکامی کے بعد وہ اس معاملے کی ذمہ داری شام کو دینے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور اس حوالے سے شام کے صدر احمد الشرع کو جنوبی لبنان میں داخل ہو کر حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے لیے بااختیار بنانے پر بات چیت کی گئی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس وقت غزہ کی صورتحال پر نسبتاً کم کشیدگی ہے اس لیے عالمی توجہ ایران کے معاملے پر مرکوز رہنی چاہیے۔

Scroll to Top