سپریم کورٹ کا سرکاری ملازمین سے متعلق اہم فیصلہ جاری

سپریم کورٹ کا سرکاری ملازمین سے متعلق اہم فیصلہ جاری

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سرکاری ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تاریخی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر کی جانب سے تحریر کردہ 8 صفحات پر مشتمل فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی سرکاری ملازم الزامات سے باعزت بری ہو جاتا ہے تو وہ اپنی معطلی یا برطرفی کے دوران کی مکمل تنخواہ اور تمام تر مراعات حاصل کرنے کا قانونی حقدار ہے۔

اس فیصلے کے ذریعے سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا سروسز ٹریبونل کا پرانا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے متاثرہ استاد کی اپیل منظور کر لی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کو سخت احکامات جاری کرتے ہوئے پابند کیا ہے کہ وہ دو ماہ کے اندر بحال ہونے والے ٹیچر کی پچھلی تمام مراعات اور واجبات کی ادائیگی کا فیصلہ کرے۔

یہ معاملہ بنوں کے گریڈ 17 کے ایک اسکول ٹیچر کا تھا جسے ایک فوجداری کیس میں سزا ہونے پر نوکری سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ہائی کورٹ نے اس ٹیچر کو کیس سے باعزت بری کر دیا جس پر محکمہ تعلیم نے انہیں نوکری پر تو بحال کر دیا لیکن ان کی سابقہ مراعات اور واجبات دینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : وراثت میں خواتین کا حق :وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ جاری

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اہم قانونی نکات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ باعزت بریت کی صورت میں ملازم کی غیر حاضری کی مدت کو ڈیوٹی پر گزارا گیا وقت تصور کیا جائے گا۔

عدالت نے مزید کہا کہ محکمانہ انکوائری اور فوجداری کارروائی کی نوعیت بالکل الگ الگ ہوتی ہے اور یہ دونوں ایک ہی وقت میں آزادانہ طور پر جاری رہ سکتی ہیں۔

عدالتِ عظمیٰ نے واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ کسی بھی تادیبی کارروائی میں ملازم کو نوکری سے برخاست کرنے سے قبل صفائی اور جواب کا پورا موقع نہ دینا آئینِ پاکستان کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

Scroll to Top