اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو موبائل فونز پر عائد پی ٹی اے ٹیکس کی ادائیگی کیلئے اقساط کی سہولت متعارف کرانے کے امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت کر دی۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک میں بڑی تعداد میں غیر پی ٹی اے منظور شدہ موبائل فونز زیر استعمال ہیں، اس لیے صارفین کو ٹیکس کی ادائیگی میں آسانی فراہم کرنے کیلئے قسطوں کا نظام متعارف کرایا جانا چاہیے۔
اجلاس کے دوران اراکین نے کہا کہ دنیا بھر میں کم قیمت اشیا بھی اقساط پر فروخت کی جاتی ہیں، لہٰذا موبائل فونز پر عائد ٹیکس کی ادائیگی کیلئے بھی اسی طرز کی سہولت دی جا سکتی ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ساتھ مل کر اس تجویز پر عمل درآمد کے امکانات کا جائزہ لے اور سفارشات مرتب کرے۔
یہ بھی پڑھیں : جے یو آئی کے صوبائی امیر کے اسکواڈ کو حادثہ، ایک اہلکار جاں بحق، 4 زخمی
اجلاس میں بعض اراکین نے موجودہ ٹیکس نظام پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ آیا اس کا مقصد صرف ریونیو میں اضافہ ہے یا مقامی موبائل فون مینوفیکچرنگ کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی اس کا حصہ ہے۔
اس موقع پر ایف بی آر حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ موبائل فونز پر عائد ٹیکس حکومتی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔
جبکہ سیکرٹری خزانہ نے خبردار کیا کہ کم قیمت موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی سے تقریباً ایک ارب روپے کے ریونیو خسارے کا سامنا ہو سکتا ہے، جس کی تلافی کیلئے متبادل ذرائع تلاش کرنا ہوں گے۔





