غیر قانونی مقیم افغان مہاجرین کیخلاف کارروائی، سوات سے 1807 افراد واپس بھیج دیے گئے

غیر قانونی مقیم افغان مہاجرین کیخلاف کارروائی، سوات سے 1807 افراد واپس بھیج دیے گئے

غیر قانونی مقیم افغان مہاجرین کیخلاف کریک ڈاؤن کے دوران سوات سے 1807 افراد کو واپس افغانستان بھیج دیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق مزید 1264 مہاجرین کی دستاویزات کی جانچ کا عمل جاری ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف جاری کارروائیوں کے تحت ضلع سوات میں افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 1807 افغان مہاجرین کو واپس افغانستان بھیجا جا چکا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق سوات میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی مجموعی تعداد 3071 ریکارڈ کی گئی تھی، جن میں سے بڑی تعداد کو قانونی کارروائی کے بعد اپنے وطن واپس روانہ کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی 1264 افغان مہاجرین سوات کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں، جن کی دستاویزات اور قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکومت کی پالیسی کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی مرحلہ وار واپسی کا عمل جاری رہے گا۔

انتظامیہ کے مطابق اس مہم کا مقصد امیگریشن قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اور ملک میں غیر قانونی قیام کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر نگرانی اور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق کی جا رہی ہے اور اس عمل کو مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

Scroll to Top