پیٹرول سستا ہوگا یا نہیں؟ وزیر پیٹرولیم نے بالآخر عوام کو بڑی خوشخبری سنا دی

پیٹرول سستا ہوگا یا نہیں؟ وزیر پیٹرولیم نے بالآخر عوام کو بڑی خوشخبری سنا دی

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول سستا کرنے کا وعدہ برقرار، عالمی قیمتیں کم ہوتے ہی عوام کو ریلیف دیں گے۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف دینے کے اپنے وعدے پر قائم ہے اور جیسے ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی آئے گی، اس کا براہِ راست فائدہ عوام تک پہنچایا جائے گا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی میں تیل کے نرخ، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ملکی معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ ہر ممکن صورت میں عوامی ریلیف کو ترجیح دی جائے، اسی لیے حکومت نے مشکل معاشی حالات کے باوجود ایسے فیصلے کیے جن سے عوام پر بوجھ کم ہو۔

علی پرویز ملک نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا، تاہم اس سے قبل کشیدہ علاقائی صورتحال کے باعث قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ ان کے مطابق اپریل میں ڈیزل کی قیمت 520 روپے اور پیٹرول 460 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی تھی، لیکن بعد ازاں حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 200 روپے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 150 سے 155 روپے تک کمی کرکے عوام کو نمایاں ریلیف فراہم کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنی پیٹرول کی ضروریات کا تقریباً 70 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے، جبکہ مقامی خام تیل سے صرف 25 سے 30 فیصد پیٹرول تیار کیا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیاں براہِ راست ملکی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے غیر یقینی حالات کے دوران مختلف ذرائع سے نسبتاً کم قیمت پر تیل کی خریداری کو یقینی بنایا، جس سے قومی خزانے کو مالی فائدہ پہنچا، جبکہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے بھی پیٹرولیم سپلائی کا نظام مؤثر انداز میں برقرار رکھا گیا۔

علی پرویز ملک کے مطابق اس وقت بھی عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 20 ڈالر فی بیرل زیادہ ہے، جس کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتوں میں مزید کمی آتی ہے تو حکومت بلا تاخیر اس کا فائدہ عوام تک منتقل کرے گی۔

وفاقی وزیر نے یہ تاثر بھی مسترد کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق فیصلے کسی بیرونی دباؤ کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے تمام فیصلے ملکی مفاد اور عوامی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے ہیں اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ رواں ہفتے عالمی منڈی میں پیٹرول کی پلیٹس قیمت 91.68 سے 98.35 ڈالر فی بیرل جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 104.79 سے 109.09 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہی۔ ان کے مطابق حکومت عالمی منڈی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ جہاں بھی گنجائش پیدا ہو، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرکے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ آ ایل این جی کنکشن جلد کھول دیئے جائینگے ، جبکہ ایران سے تیل اور گیس سستا خریدنے پر غور کررہے ہیں ، اپنے ایرانی بھائیوں کیساتھ بیٹھ کر بات کرینگے ، کم قیمت ہوگی تو ایل این جی خرید سکتے ہیں ۔

علی پرویز ملک نے ایران گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے ، کیس کی پیروی کررہے ہیں اور ایرانی بھائیوں سے مل کر معاملات کو حل کرینگے ۔

 

Scroll to Top