خیبرپختونخوا اسمبلی نے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف ایک اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
مشترکہ قرارداد رکن اسمبلی ڈاکٹر حمید الرحمان نے ایوان میں پیش کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وفاقی سطح پر ٹیکسوں کے نفاذ کے فیصلے پر فوری نظر ثانی کرتے ہوئے اسے واپس لیا جائے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ان علاقوں میں ٹیکسوں کا نفاذ نہ صرف مقامی معیشت کو متاثر کرے گا بلکہ اس سے بے روزگاری اور غربت میں بھی اضافہ ہوگا، اس کے ساتھ مطالبہ کیا گیا کہ ماضی میں دی گئی ٹیکس مراعات اور قانونی تحفظات کو برقرار رکھا جائے۔
مزید کہا گیا کہ کسی بھی ٹیکس پالیسی کے نفاذ سے قبل مقامی منتخب نمائندوں، تاجر برادری، چیمبرز آف کامرس اور دیگر متعلقہ فریقین سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر اس کے منفی معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا اسمبلی میں ہزارہ صوبے کی قرارداد پر گرما گرمی، نثار باز کی سخت مخالفت
قرارداد کی منظوری کے بعد ایوان میں اس معاملے پر تفصیلی بحث بھی ہوئی، جس میں ارکان نے متفقہ طور پر خدشات کا اظہار کیا کہ موجودہ حالات میں ایسے اقدامات سے مقامی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔





