وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عوام دوست بجٹ کی تیاری پر پوری حکومتی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
صوبائی کابینہ کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےمحمد سہیل آفریدی نے کہاکہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کی خدمت اور فلاح ہے اور بجٹ میں عوامی ضروریات اور احساسات کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ آئندہ تین ماہ عوام کو عملی ریلیف دینے کے مہینے ہیں اور عوام کا اطمینان ہی حکومت کی کارکردگی کا اصل پیمانہ ہے، اس لیے صرف پریزنٹیشنز اور رپورٹس سے کام نہیں چلے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی میں متعلقہ پارلیمنٹیرینز کی شرکت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
صوبے میں ڈاکٹرز کی بھرتیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ 2400 ڈاکٹرز کی بھرتیوں سے متعلق شکایات کا انہوں نے خود جائزہ لیا ہے۔ امیدواروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنی شکایات وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل میں جمع کرائیں کیونکہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ عوام کی ہر شکایت سنے، جائز شکایات کا ازالہ کرے اور ہر امیدوار کو مطمئن کرے۔
انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ متعدد شکایات امیدواروں کے موبائل نمبر، نام اور پی ایم ڈی سی رجسٹریشن نمبر کی درستگی سے متعلق تھیںجبکہ میرٹ سے متعلق تقریباً 21 شکایات موصول ہوئیں جن کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد تمام بھرتیاں مقررہ معیار کے مطابق درست پائی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں کی بھرتیوں میں بے ضابطگیاں ناقابل قبول ہیں، ایمل ولی خان
وزیراعلیٰ نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ بعض امیدواروں کو بھرتی کے مقررہ معیار سے مکمل آگاہی نہیں تھی، تاہم جس امیدوار کی شکایت اب بھی رہ گئی ہو، وہ ثبوت کے ساتھ وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل سے رجوع کرے، ہر شکایت کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر کسی امیدوار کے ساتھ ناانصافی ثابت ہوئی تو اسے انصاف فراہم کیا جائے گا اور 2400 ڈاکٹرز کی بھرتیاں مکمل ہونے کے بعد بھی جائز شکایت ثابت ہونے پر امیدوار کو ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ڈاکٹرز کی کمی ہے، اس لیے اہل امیدواروں کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جائے گا اور بھرتی شدہ ڈاکٹرز کو جلد تعینات کیا جائے گا تاکہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات مل سکیں۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان کے وژن کے مطابق شفافیت، میرٹ اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس حکومت کی بنیادی پالیسی ہے۔
دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی جنرل سیکریٹری حسین شاہ یوسفزئی نے صوبائی وزیرمینا خان پر شدید نوعیت کے کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر صحت نے سی ایم ہاؤس میں بیٹھ کر 15، 15 لاکھ روپے کے عوض ڈاکٹروں کی ایک ایک اسامی بیچی ہے۔
دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک سال کے کانٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے ان ڈاکٹروں کی اسامیوں میں بندر بانٹ کے ذریعے محض تین سے چار دنوں کے اندر دو ارب دس کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کی گئی ہے۔
حسین شاہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اس بھرتی کے عمل میں بدترین دھاندلی کی گئی ہے، جس کے تحت اعلیٰ کوالیفکیشن اور اسپیشلائزیشن کرنے والے باصلاحیت ڈاکٹروں کو محروم کر دیا گیا جبکہ قسطوں اور دھکوں سے پاس ہونے والوں کو نوکریاں دی گئیں۔





