سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اعترافی بیان کی ویڈیو جعلی نکلی، اے ایف پی فیکٹ چیک نے پی ٹی آئی کا بھانڈا پھوٹ دیا

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے فیکٹ چیک نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے ایک بڑے پروپیگنڈے کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے منسوب اعترافی بیان کی ویڈیو کو مکمل طور پر جعلی اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔

فرانسیسی ادارے کی تحقیقات کے مطابق وائرل ویڈیو ڈیجیٹل ہیرا پھیری کا نتیجہ ہے جس میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ آڈیو شامل کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ سابق چیف جسٹس نے عمران خان کے خلاف فیصلوں پر کسی بیرونی دباؤ کا اعتراف کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خصوصاً ایکس اور فیس بک پر پی ٹی آئی حامیوں کی جانب سے شیئر کی جانے والی اس ویڈیو میں قاضی فائز عیسیٰ کو مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا نظام پیچیدہ ہے اور بطور چیف جسٹس ان کے اختیارات محدود تھے، جبکہ کچھ ایسی نادیدہ طاقتیں بھی فیصلوں پر اثر انداز ہوئیں جن کا نام نہیں لیا جا سکتا۔

ویڈیو کے اوپر اردو تحریر میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان کی عمران خان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی بلکہ پورا سسٹم سابق وزیراعظم کے خلاف ہو چکا تھا۔ اس گمراہ کن پوسٹ کو انٹرنیٹ پر ہزاروں بار دیکھا اور شیئر کیا گیا۔

اے ایف پی کی تحقیقات اور گوگل ریورس امیج سرچ کے ذریعے معلوم ہوا کہ یہ کلپ اکتوبر 2022 میں آکسفورڈ یونین کے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کی گئی ایک طویل گفتگو سے لیا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت یہ انٹرویو ریکارڈ ہوا قاضی فائز عیسیٰ نے بطور چیف جسٹس حلف بھی نہیں اٹھایا تھاکیونکہ انہوں نے ستمبر 2023 میں یہ عہدہ سنبھالا تھا۔

اصل انٹرویو کے دوران انہوں نے اپریل 2022 میں اسمبلی تحلیل کرنے کے صدارتی فیصلے کو غیر قانونی قرار دینے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر قانونی گفتگو کی تھی اور پوری ویڈیو میں کہیں بھی جانبداری یا کسی بیرونی دباؤ کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں : اے این پی کا صوبائی وزیر مینا خان پرڈاکٹروں کی اسامیاں 15، 15 لاکھ میں بیچنے کا الزام

ڈیجیٹل فارنزک کے ماہرین اور ادارہ گیٹ رئیل لیبز نے بھی اس ویڈیو کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کلپ میں نظر آنے والی ہونٹوں کی جنبش اور پسِ پردہ سنائی دینے والی آواز میں واضح تضاد موجود ہے۔

فارنزک رپورٹ کے مطابق یہ آڈیو آرٹیفیشل انٹیلیجنس یا مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی ہے تاکہ سابق چیف جسٹس سے منسوب کر کے ایک جعلی بیانیہ تخلیق کیا جا سکےلہٰذا یہ ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی حامیوں کی جانب سے وائرل کی جانے والی ویڈیو من گھڑت ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Scroll to Top