اے این پی کا صوبائی وزیر مینا خان پرڈاکٹروں کی اسامیاں 15، 15 لاکھ میں بیچنے کا الزام

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی جنرل سیکریٹری حسین شاہ یوسفزئی نے صوبائی وزیر مینا خان پر شدید نوعیت کے کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مینا خان نے سی ایم ہاؤس میں بیٹھ کر 15، 15 لاکھ روپے کے عوض ڈاکٹروں کی ایک ایک پوسٹ بیچی ہے۔

پشاور میں دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک سال کے کانٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے ان 1400 ڈاکٹروں کی اسامیوں میں بندر بانٹ کے ذریعے محض تین سے چار دنوں کے اندر دو ارب دس کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کی گئی ہے۔

 حسین شاہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ اس بھرتی کے عمل میں بدترین دھاندلی کی گئی ہے جس کے تحت اعلیٰ کوالیفکیشن اور اسپیشلائزیشن کرنے والے باصلاحیت ڈاکٹروں کو محروم کر دیا گیا جبکہ قسطوں اور دھکوں سے پاس ہونے والوں کو نوکریاں دی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ پورٹل پر پہلے باقاعدہ میرٹ رزلٹ جاری کیا گیا تھا جس کے اسکرین شاٹس امیدواروں کے پاس موجود ہیںلیکن بعد میں اس اصل رزلٹ کو پورٹل سے غائب کر کے جالی طریقے سے پینسل سے نمبر لگائے گئے اور مارکر سے دستخط کر کے من پسند افراد کو نوازا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں کی بھرتیوں میں بے ضابطگیاں ناقابل قبول ہیں، ایمل ولی خان

صوبائی جنرل سیکریٹری نے حکمران جماعت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ ٹرانسپیرنسی، نیا پاکستان اور ریاستِ مدینہ کے دعوے کرنے والوں کا کرپشن سے پاک پاکستان اب کہاں گیا؟ انہوں نے مینا خان کو چیلنج کیا کہ وہ سامنے آئیں اور حلفاً اس کرپشن کی تردید کریں، اگر وہ ایسا کریں گے تو میں سیاست چھوڑ دوں گا، لیکن اگر میں نے اس مبینہ رشوت ستانی کے خلاف گواہ پیش کر دیے تو عوام خود ان کا اصل چہرہ دیکھ لے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اے این پی (ملگری ڈاکٹران )اس ناانصافی کے خلاف متحرک ہے اور تمام متاثرہ ڈاکٹروں کو متحد کر کے اس کرپشن کے خلاف آخری حد تک جائیں گے۔

Scroll to Top