سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے نتائج بھاری ہوں گے، بھارت جنگ کے بیج بونے سے گریز کرے: اسحاق ڈار

سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے نتائج بھاری ہوں گے، بھارت جنگ کے بیج بونے سے گریز کرے: اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نےکہا ہے کہ پانی کا تحفظ پاکستان کے لیے قومی سلامتی کا معاملہ ہے، اس لیے بھارت خطے میں جنگ کے بیج بونے سے گریز کرے۔

سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ ایک بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ سرحد پار دریاؤں کے عالمی معاہدے کو کمزور کرنے کی قیمت انتہائی بھاری ہو سکتی ہے کیونکہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہتے۔

انہوں نے خطے کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مئی 2025 کے بحران اور بھارتی اعلانات کے بعد پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا خصوصی اجلاس ہوا تھا جس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ پانی کا رخ موڑنے یا روکنے کی کسی بھی بھارتی کوشش کو جنگ کے مترادف اقدام تصور کیا جائے گا۔

اسحاق ڈار نے بھارت کو مشورہ دیا کہ وہ جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں نہ ڈالےکیونکہ خطے میں پائیدار امن کا راستہ طاقت یا دھمکی نہیں بلکہ صرف مذاکرات ہے۔

نائب وزیراعظم نے پاکستان کے جغرافیائی اور معاشی حقائق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پانی پاکستان کے 25 کروڑ سے زائد شہریوں کی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہماری زراعت، غذائی تحفظ اور ملکی معیشت کا تمام تر انحصار تین مغربی دریاؤں کے بہاؤ پر ہے۔ ان دریاؤں اور ان کے پانی کا تحفظ پاکستان کے لیے اولین قومی مفاد اور بقا کا معاملہ ہے، اور پاکستان کے جائز آبی حقوق سے محروم کرنے کی کسی بھی کوشش کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو بھرپور جواب دیا جائیگا، عطا تارڑ

انہوں نے پاکستان کے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن، بامقصد مذاکرات اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے عزم پر پوری طرح قائم ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے امن کا داعی رہا ہے اور ہم کسی صورت جنگ نہیں چاہتے، لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر کوئی بھی غیر قانونی قبضہ یا تجاوز ہرگز قبول نہیں کرے گا۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان عالمی قانون کے تحت دستیاب تمام قانونی اور سفارتی ذرائع سے اپنے قومی مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گا۔

Scroll to Top