صرف 2,100 روپے ماہانہ، الیکٹرک بائیک گھر لے جائیں

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے طلبہ کے لیے آسان اور سود سے پاک اقساط پر ای بائیکس فراہم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پنجاب بھر میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے متعدد اہم منصوبوں کی منظوری دے دی۔

وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ ڈیپارٹمنٹ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں الیکٹرک بسوں، ای ٹیکسیوں، ای بائیکس، ای تھری وہیلرز، ماس ٹرانزٹ منصوبوں اور پنجاب میں الیکٹرک گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور: حسن خیل میں ریاست کے حامی شہریوں پر خوارج کا ڈرون حملہ، 6 عام شہری زخمی

اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں گرین ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے آئندہ پانچ برسوں کے دوران پانچ ہزار الیکٹرک بسیں عوامی خدمت کے لیے فراہم کی جائیں گی، جبکہ پہلے مرحلے میں پنجاب کی 91 تحصیلوں میں 1500 الیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی۔ اس منصوبے کے لیے پی سی ون کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے نوجوان طلبہ کے لیے ایک سال کے دوران ایک لاکھ ای بائیکس فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت ہر ای بائیک پر 70 ہزار روپے سبسڈی دے گی۔ میل طلبہ کو صرف 14 ہزار روپے ڈاؤن پیمنٹ جمع کرانا ہوگی، جبکہ بقیہ رقم 2100 روپے ماہانہ سود سے پاک اقساط میں ادا کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : آزاد کشمیر انتخابات: اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی اہم بیٹھک، نظریں اہم فیصلوں پر

وزیراعلیٰ نے طالبات کے لیے خصوصی ریلیف کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ ای بائیکس کی ڈاؤن پیمنٹ اور رجسٹریشن فیس پنجاب حکومت ادا کرے گی، جبکہ طالبات بھی صرف 2100 روپے ماہانہ آسان اور سود سے پاک اقساط ادا کریں گی۔ سرکاری ملازمین کو بھی اسی اسکیم کے تحت ای بائیکس فراہم کی جائیں گی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ کی کاروبار دوست پالیسیوں کے نتیجے میں پنجاب میں الیکٹرک بسوں کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کا قیام عمل میں آچکا ہے اور صوبے میں اسمبلنگ پلانٹ نے الیکٹرک بسوں کی اسمبلنگ کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ اس موقع پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب اب صرف الیکٹرک بسیں نہیں چلا رہا بلکہ انہیں تیار بھی کر رہا ہے، جو صوبے کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں 400 فعال بسوں کو جلد الیکٹرک بسوں میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ مزید 212 بسیں مختلف شہروں کے لیے مختص کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ 28 اضلاع میں مزید 100 بسیں 10 جولائی کو افتتاح کے لیے تیار ہیں، جبکہ 61 بسوں کو فوری طور پر سروس میں شامل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی۔

وزیراعلیٰ نے جھنگ، کبیر والا، بھکر، اٹک، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، چنیوٹ، لیہ، اوکاڑہ اور سیالکوٹ سمیت مختلف شہروں میں الیکٹرک بسیں فوری طور پر فعال کرنے کا حکم بھی دیا۔

مزید 189 نئی الیکٹرک بسیں سافٹ لانچنگ کے لیے تیار ہیں، جبکہ 112 بسیں گوجرانوالہ، گجرات، شیخوپورہ، ملتان، مری، وہاڑی، قصور، لودھراں، ننکانہ اور نارووال پہنچ چکی ہیں، جو 25 جولائی سے سروس کا آغاز کریں گی۔ مزید 488 الیکٹرک بسیں 20 جولائی کو چین سے پنجاب روانہ کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں : یونیورسٹی روڈ پر ایک اور پانی کی لائن متاثر، کئی علاقوں میں سپلائی معطل

اجلاس میں کوٹ ادو، تلہ گنگ، تونسہ شریف، وہاڑی، لودھراں اور ننکانہ میں بھی الیکٹرک بسوں کی فوری فراہمی اور جہاں 15 سے کم بسیں موجود ہیں وہاں کم از کم 15 بسیں فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس کے دوران گوجرانوالہ اور فیصل آباد ماس ٹرانزٹ منصوبوں پر پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ منصوبے کے 19.5 کلومیٹر طویل روٹ پر ایک اضافی اسٹیشن شامل کرنے کے بعد اسٹیشنوں کی مجموعی تعداد 25 ہو گئی ہے، جبکہ منصوبے پر تین شفٹوں میں کام جاری ہے اور بیریکیڈنگ، ڈائیورژنز، پائلنگ، انڈر پاسز اور دیگر تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔

اسی طرح فیصل آباد ماس ٹرانزٹ منصوبے کے 20.3 کلومیٹر طویل روٹ پر بھی تیزی سے کام جاری ہے، جس میں 21 جدید بس اسٹیشن قائم کیے جائیں گے۔ فیصل ٹاؤن اور ایئرپورٹ چوک میں بس ڈپو تعمیر کیے جا رہے ہیں، جبکہ گریڈ سیکشن، ایلیویٹڈ سیکشن اور ایئرپورٹ سے جھمرہ تک روڈ انفراسٹرکچر پر بھی کام جاری ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو دونوں منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق تصویری شواہد اور ویڈیوز بھی پیش کی گئیں، جبکہ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو جدید، محفوظ اور ماحول دوست سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

Scroll to Top