واشنگٹن: امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ صرف غذائی کیلوریز میں کمی یا رات گئے کھانے سے گریز ہی نہیں، بلکہ دن بھر میں کھانے کا وقت بھی اچھی صحت اور طویل عمر کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یو ٹی ساؤتھ ویسٹرن میڈیکل سینٹر کی تحقیق کے مطابق جسمانی گھڑی کے مطابق مخصوص اوقات میں غذا کا استعمال عمر بڑھنے کے ساتھ صحت کو بہتر رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق چوہوں پر کی گئی، جس میں مختلف اوقات میں خوراک دینے کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے بتایا کہ جسمانی نظام کے مطابق غذا کھانے سے صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور عمر سے وابستہ بیماریوں کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق غذائی کیلوریز میں کمی سے درمیانی عمر اور بڑھاپے میں کینسر، دل کے امراض اور دماغی تنزلی جیسے دائمی امراض کا خطرہ تقریباً 50 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ رات گئے کھانے کے بجائے جلد کھانا کھانے سے مختلف بیماریوں کا خطرہ 35 فیصد تک کم ہو جاتا ہے، جبکہ مجموعی صحت میں بھی نمایاں بہتری آتی ہے۔
تحقیق میں 528 صحت مند چوہوں کو شامل کیا گیا۔ ابتدائی آٹھ ہفتوں کے بعد انہیں مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا، جن میں ایک گروپ کو دن بھر کسی بھی وقت کھانے کی اجازت دی گئی، جبکہ دوسرے گروپ کو صرف مخصوص اوقات، یعنی 2 سے 12 گھنٹوں کے اندر تمام غذا فراہم کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور بی آر ٹی میں 52 نئی بسیں شامل، خواتین کے لیے پنک بس سروس بھی شروع ہوگی
نتائج سے معلوم ہوا کہ جن چوہوں نے اپنی روزانہ کی خوراک آٹھ گھنٹوں کے اندر مکمل کی، ان کی اوسط عمر میں 12 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ ان میں موٹاپے اور دائمی بیماریوں کا خطرہ بھی نمایاں طور پر کم رہا۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ 12 گھنٹوں کے اندر تمام غذا کھانے والے چوہوں کی صحت بھی وقت کے ساتھ بہتر ہوئی۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تحقیق چوہوں پر کی گئی ہے، تاہم انسانوں کے لیے بھی ناشتے کے بعد 12 گھنٹوں کے اندر روزانہ کی تمام غذا کھانا فائدہ مند ہو سکتا ہے، البتہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
یہ تحقیق کے نتائج معروف طبی جریدے نیچر ایجنگ میں شائع ہوئے ہیں۔





