فٹبال ورلڈ کپ! ایرانی ٹیم کی وطن واپسی پر ایسا شاندار استقبال کہ دنیا دیکھتی رہ گئی

فٹبال ورلڈ کپ! ایرانی ٹیم کی وطن واپسی پر ایسا شاندار استقبال کہ دنیا دیکھتی رہ گئی

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ مرحلے سے باہر ہونے کے باوجود ایرانی فٹبال ٹیم کی تہران واپسی پر مہرآباد ایئرپورٹ پر شائقین نے پرتپاک اور جذباتی استقبال کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل نہ کرنے کے باوجود ایرانی قومی فٹبال ٹیم کی وطن واپسی پر شائقین نے بھرپور اور پرجوش استقبال کیا، جہاں سیکڑوں مداح قومی پرچم لہراتے اور “ایران، ایران” کے نعرے لگاتے ہوئے کھلاڑیوں کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے گروپ مرحلے سے باہر ہونے کے بعد ایرانی ٹیم بدھ کے روز ترکی کے راستے میکسیکو سے تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پہنچی، جہاں شائقین، بچوں اور اہل خانہ کی بڑی تعداد نے ٹیم کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔

ایئرپورٹ پر کھلاڑیوں کے پہنچنے پر فوجی بینڈ نے قومی ترانہ پیش کیا، جبکہ مداحوں نے قومی ٹیم کی جرسی پہن رکھی تھی اور متعدد افراد نے کھلاڑیوں، خصوصاً گول کیپر علی رضا بیرانوند کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، جنہوں نے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی دکھائی۔

اس موقع پر علی رضا بیرانوند نے شائقین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی نہ حاصل کرنے پر افسردہ ہے اور وہ اپنے مداحوں کو بہتر نتائج نہ دینے پر معذرت خواہ ہیں۔ دفاعی کھلاڑی رامین رضائیان نے کہا کہ ٹیم مزید آگے جانے کی صلاحیت رکھتی تھی، تاہم بعض انتظامی اور سفری مشکلات نے بھی صورتحال کو متاثر کیا۔

شائقین کی جانب سے ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ کھلاڑیوں نے پوری کوشش کی اور قوم کا نام روشن کرنے کی بھرپور جدوجہد کی۔ ایک مداح مونا بنی صفا نے کہا کہ وہ صرف ٹیم کا شکریہ ادا کرنے آئی ہیں، کیونکہ کھلاڑیوں نے مشکل حالات کے باوجود بہترین کھیل پیش کیا۔

رپورٹ کے مطابق ایران اپنے گروپ میں تینوں میچ برابر کھیلنے کے باوجود بہتر گول اوسط نہ ہونے کے باعث تیسرے نمبر پر رہا اور بہترین تیسرے نمبر کی ٹیموں کی فہرست میں جگہ نہ بنا سکا، جس کے باعث اس کی ٹورنامنٹ میں پیش قدمی ختم ہو گئی۔

ذرائع کے مطابق ٹورنامنٹ کے دوران ایرانی ٹیم کو سفری اور انتظامی مشکلات کا بھی سامنا رہا، جبکہ بعض ارکان کو ویزے نہ ملنے کے باعث ٹیم کو اپنا بیس کیمپ امریکہ کے بجائے میکسیکو منتقل کرنا پڑا، جس پر ایرانی حکام نے تحفظات کا اظہار کیا۔

Scroll to Top