اگر فالج سے بچنا چاہتے ہیں تو آج ہی اپنی خوراک میں یہ غذائیں شامل کریں

ماہرینِ صحت نے کہا ہے کہ فالج ایک جان لیوا طبی ایمرجنسی ہے، جس میں بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں موت یا مستقل معذوری کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔ تاہم متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانے سے اس بیماری کے خطرے میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق فالج کی دو بڑی اقسام ہیں۔ ایک برین ہیمرج، جس میں دماغ کی شریان پھٹ جاتی ہے، جبکہ دوسری قسم میں دماغ کو خون فراہم کرنے والی شریان بند ہو جاتی ہے، جس کے باعث دماغ کو آکسیجن کی فراہمی متاثر ہوتی ہے اور دماغی خلیات کو نقصان پہنچتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کافی کے شوقین افراد کے لیے بڑی خوشخبری، یہ خبر ضرور پڑھیں

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فالج کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے، تاہم 55 سال کی عمر کے بعد ہر 10 سال میں اس کا خطرہ تقریباً دگنا ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا اور ہائی کولیسٹرول بھی فالج کے امکانات میں اضافہ کرتے ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ چند عام غذائیں ایسی ہیں جنہیں روزمرہ خوراک کا حصہ بنا کر فالج کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک اور ساگ غذائی نائٹریٹس اور مفید اجزا سے بھرپور ہوتی ہیں، جو جسم میں نائٹرک آکسائیڈ میں تبدیل ہو کر خون کی روانی بہتر بنانے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ان سبزیوں کا روزانہ استعمال فالج کے خطرے کو 17 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔

اسی طرح اخروٹ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگر مفید غذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں، جو جسم میں سوزش کم کرنے، خون کی روانی بہتر بنانے اور دل و دماغ کی صحت کو بہتر رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

ماہرین نے ترش پھلوں جیسے مالٹے کو بھی مفید قرار دیا ہے، کیونکہ ان میں وٹامن سی، فولیٹ، پوٹاشیم اور فلیونوئڈز موجود ہوتے ہیں، جو جسم کو آکسیڈیٹو نقصان سے بچانے اور فالج کے خطرے کو کم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ڈیمینشیا سے بچاؤ کا آسان ترین طریقہ، نہ دوا نہ مہنگا علاج

تحقیقی رپورٹس کے مطابق مچھلی میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز خون کی روانی بہتر بنانے اور سوزش کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ مچھلی کھانے سے فالج کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ دہی کیلشیئم، پوٹاشیم اور پروبائیوٹکس کا بہترین ذریعہ ہے، جو دل اور خون کی شریانوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ اسی طرح زیتون کا تیل بھی فالج اور امراضِ قلب کے خطرے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ سیب اور کیلے بھی فائبر اور پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں۔ فائبر سے بھرپور غذا شریانوں کی صحت بہتر بناتی ہے، جبکہ پوٹاشیم بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے، جس سے فالج کے خطرات میں کمی آتی ہے۔

ماہرین نے زور دیا کہ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھ کر فالج کے خطرے کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ البتہ کسی بھی طبی مسئلے یا غذائی تبدیلی سے قبل اپنے معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

Scroll to Top