ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ طویل وقت تک مسلسل بیٹھے رہنے کی عادت کینسر سے موت کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے، جبکہ روزانہ معمولی جسمانی سرگرمی بھی اس خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
طبی جریدے PLOS Medicine میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق دن میں مسلسل بیٹھنے کا ہر اضافی گھنٹہ کینسر سے موت کے خطرے میں تقریباً 9 فیصد اضافہ کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کرکٹرز کے لیے بڑی خوشخبری، پی سی بی نے بڑا ریلیف دے دیا
یہ تحقیق یونیورسٹی آف گلاسگو کے محقق فریڈرک ہو اور ان کی ٹیم نے انجام دی، جس میں 91 ہزار 292 افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے سات روز تک سرگرمی مانیٹر استعمال کیا، جبکہ ان کی صحت کا اوسطاً 12.38 سال تک جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے مطابق مسلسل بیٹھے رہنے کا تعلق مختلف اقسام کے کینسر، خصوصاً غذائی نالی، جگر، گردے، لبلبے، بڑی آنت، چھاتی اور تھائیرائیڈ کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرات سے پایا گیا۔ اس کے علاوہ یہ رویہ ٹائپ ٹو ذیابیطس سے متعلق کینسر کے خطرے سے بھی منسلک دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : نوجوانوں میں کینسر کے کیسز میں خطرناک اضافہ، بڑی وجہ سامنے آگئی
محققین نے بتایا کہ اگر روزانہ مسلسل بیٹھنے کے ایک گھنٹے کو ہلکی جسمانی سرگرمی سے تبدیل کر دیا جائے تو کینسر سے ہونے والی اموات کے خطرے میں 12 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
تاہم محققین نے واضح کیا کہ یہ تحقیق صرف یو کے بائیو بینک کے رضاکاروں پر کی گئی ہے، اس لیے اس کے نتائج ہر آبادی پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔
ان کے مطابق اس تحقیق سے صرف تعلق (Association) ظاہر ہوتا ہے، یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صرف زیادہ بیٹھنا ہی کینسر کی براہِ راست وجہ بنتا ہے۔





