عالمی منڈی میں قیمتیں گرنے کے باوجود پیٹرول زیادہ سستا کیوں نہیں ہوا؟ حکومت کی پالیسی کی بڑی وجہ سامنے آ گئی

عالمی منڈی میں قیمتیں گرنے کے باوجود پیٹرول زیادہ سستا کیوں نہیں ہوا؟ حکومت کی پالیسی کی بڑی وجہ سامنے آ گئی

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول صارفین کو مکمل ریلیف نہ مل سکا، جس کی بڑی وجہ پیٹرولیم لیوی میں اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود پاکستان میں پیٹرول صارفین کو مکمل ریلیف نہ مل سکا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں اضافے کے باعث عوام کو صرف معمولی کمی کا فائدہ ہی منتقل کیا گیا۔

گزشتہ رات حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں معمولی کمی کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد ازاں جاری ہونے والے پیٹرولیم لیوی کے نوٹیفکیشن سے انکشاف ہوا ہے کہ پیٹرول پر لیوی میں 6 روپے 22 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی بڑھ کر 70 روپے 36 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیمنٹ سستا ہوا یا مہنگا؟ نئی رپورٹ نے صورتحال واضح کر دی، تعمیراتی شعبے کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

ماہرین کے مطابق اگر پیٹرولیم لیوی میں اضافہ نہ کیا جاتا تو عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا زیادہ فائدہ براہ راست عوام تک منتقل کیا جا سکتا تھا اور پیٹرول مزید سستا ہونے کا امکان موجود تھا۔ تاہم لیوی میں اضافے کے باعث قیمتوں میں کمی کی گنجائش کا بڑا حصہ حکومتی ریونیو میں شامل ہو گیا، جس کے نتیجے میں صارفین کو محدود ریلیف ملا۔

دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی میں 6 روپے 22 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد ڈیزل پر لیوی 70 روپے 82 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔ مٹی کے تیل پر لیوی 20 روپے 36 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے جبکہ 5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی بھی بدستور نافذ رہے گی۔ اسی ہفتے حکومت کی جانب سے کلائمٹ لیوی میں بھی اضافہ کیا گیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین صرف عالمی نرخوں پر نہیں بلکہ پیٹرولیم لیوی، کاربن لیوی، درآمدی لاگت اور دیگر حکومتی ٹیکسز بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر لیویز میں اضافہ نہ کیا جاتا تو صارفین کو کہیں زیادہ ریلیف مل سکتا تھا۔

Scroll to Top