شاپور زدران کی آخری وطن واپسی، اہلِ خانہ اور ساتھی کرکٹرز غم سے نڈھال

کابل: افغانستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شاپور زدران کا جسدِ خاکی بھارت سے کابل پہنچا دیا گیا، جہاں کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کے اہلِ خانہ، رشتہ داروں، دوستوں، حکومتی عہدیداروں اور افغان کرکٹ ٹیم کے موجودہ و سابق کھلاڑیوں نے انہیں الوداعی خراجِ عقیدت پیش کیا۔

افغان کرکٹ بورڈ کے مطابق شاپور زدران کا جسدِ خاکی بدھ کے روز بھارت سے کابل پہنچا۔ وہ انتقال سے قبل بھارت میں زیرِ علاج تھے۔

کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کے جسدِ خاکی کے استقبال کے لیے بڑی تعداد میں افراد موجود تھے، جبکہ قومی ٹیم کے اسٹار اسپنر راشد خان، ابراہیم زدران سمیت دیگر موجودہ اور سابق کرکٹرز بھی وہاں پہنچے۔

جسدِ خاکی کی آمد کے موقع پر جذباتی اور رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ ساتھی کھلاڑیوں نے احترام کے ساتھ تابوت کو کندھا دے کر گاڑی تک پہنچایا، جبکہ ہر آنکھ اشکبار دکھائی دی۔

واضح رہے کہ شاپور زدران طویل علالت کے بعد منگل کے روز نئی دہلی کے ایک اسپتال میں 38 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان کے سابق فاسٹ بولر شاپور زدران انتقال کر گئے

وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور گزشتہ کچھ عرصے سے بھارت کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج تھے، جہاں افغانستان کے متعدد کرکٹرز ان کی عیادت کے لیے بھی جاتے رہے۔

شاپور زدران نے اپنے بین الاقوامی کیریئر میں افغانستان کی جانب سے 44 ایک روزہ اور 36 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے۔

وہ 2015 کے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ میں اسکاٹ لینڈ کے خلاف افغانستان کی تاریخی پہلی فتح کے ہیرو بھی تھے، جب انہوں نے فاتحانہ رنز بنا کر ٹیم کو یادگار کامیابی دلائی تھی۔

سابق فاسٹ بولر کے انتقال پر کرکٹ برادری، سابق و موجودہ کھلاڑیوں، کرکٹ حکام اور شائقین کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔

Scroll to Top