امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے جس کے ممکنہ طور پر سوئٹزرلینڈ میں ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیںجبکہ دو روز تک جاری رہنے والے حملوں کا سلسلہ بھی فی الحال تھم گیا ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ قطر، پاکستان، مصر اور سعودی عرب کے حکام نے بدھ کے روز امریکی اور ایرانی حکام سے ٹیلیفونک رابطے کئے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کیا جا سکے۔
ثالثی کے عمل میں شامل ذرائع کے مطابق مختلف ممالک کی سفارتی کوششوں کا مقصد امریکا اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے کرنا ہے، تاکہ تنازع کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کیا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر موجودہ سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا نیا مرحلہ آئندہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم میاں شہبازشریف نے بھی ایران کے صدرمسعود پزشکیان، قطری امیر تمیم بن حمدآل ثانی سے اہم رابطے کئے اور خطے میں امن کیلئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد پر زور دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکا سے مذاکرات کی درخواست؟ ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا
قبل ازیں امریکی صدرڈونلڈ ترمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔
اپنے سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران نے ہم سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔ ہم نے اسے جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہےتاہم امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے واضح طور پر ایران کو بتادیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہو گئی ہے۔
اس سے قبل بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے خبر دی تھی کہ قطری مذاکرات کار ایران میں موجود ہیں جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
روئٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کوششوں کا ایران اور امریکہ کے درمیان مقصد کشیدگی میں کمی اور وسیع تر مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔





