دورہ ویسٹ انڈیزسے پہلے پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی تیاریاں جاری

ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ کے خلاف چکدرہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں پی ٹی آئی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں، تاجر تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا غربت، بدامنی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہیں، ایسے حالات میں ٹیکس کا نفاذ عوام پر ظلم ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ٹیکس کا فیصلہ واپس لے۔

گورنر نے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور ان کی حکومت اس معاملے پر مؤثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مشیر خزانہ مزمل اسلم یا متعلقہ حکام ٹیکس کے معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں کر سکتے تو واضح بتائیں، پھر وہ خود اس مسئلے کے حل کے لیے کردار ادا کریں گے۔

فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں روزگار، صنعتوں اور ترقیاتی منصوبوں کی کمی ہے، اس لیے نئے ٹیکس عوام پر اضافی بوجھ ہوں گے۔ انہوں نے سابق فاٹا کے لیے وفاق کی جانب سے کیے گئے مالی وعدوں، افغان مہاجرین کی آڑ میں پختونوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک اور صوبائی حکومت کے میڈیا سے متعلق قانون پر بھی تنقید کی۔

کانفرنس کے مقررین نے متفقہ طور پر ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو بھرپور احتجاج اور مزاحمت کی جائے گی۔

Scroll to Top