کراچی میں رینجرز ہیڈ کوارٹرزحملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ افغانستان سے اسمگلنگ کے ذریعے لایا گیا،سہولت کاراحسان اللہ کا اعترافی بیان

کراچی میں رینجرز ہیڈ کوارٹرز پر حملے میں ملوث سہولت کار احسان اللہ کا اعترافی بیان سامنے آ گیا ہے۔

اپنے اعترافی بیان میںخیبرپختونخوا سےتعلق رکھنے والے ملزم احسان اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ گزشتہ ایک سال سے کراچی میں اسمگلنگ کا کام کر رہا ہے اور اس دوران ٹی ٹی پی کمانڈر سعید شاہ نے افغانستان کے نمبر سے اس سے رابطہ کر کے کہا تھا کہ اس کا کچھ سامان وصول کرنا ہے۔

ملزم نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سعید شاہ کے رابطے کے بعد ریاض نامی شخص نے 29 مئی کو اس سے رابطہ کیا اور بتایا کہ آپ کا سامان میرے پاس ہے۔

ملزم کے مطابق جب اس نے مصروفیت کا بتایا تو ریاض نے بعد میں رابطہ کرنے کا کہا اور اسی رات 11 بجے دوبارہ رابطہ کر کے مطلع کیا کہ سامان دوسرے بندے لیاقت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اسی رات 11 بجے کے بعد لیاقت نے بھی رابطہ کر کے اگلے دن سامان دینے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد اگلی صبح 30 مئی کو ساڑھے سات بجے ملزم نے لیاقت سے سامان وصول کر لیا۔

ملزم احسان اللہ نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ سامان کی وصولی کے بعد افغانستان کے نمبر سے قاری حبیب اللہ نے اس سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا میرا سامان آپ کے پاس ہے، جس پر ملزم نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے اسے کورنگی کراسنگ آ کر سامان لے جانے کا کہا۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان رینجرز سندھ کیمپ حملے میں ملوث زخمی دہشتگرد کے ہوشربا انکشافات

ملزم کے مطابق بعد ازاں قاری حبیب اللہ کورنگی کراسنگ پر آیا اور اس سے اپنا سامان لے کر چلا گیا۔

Scroll to Top