نوشہرہ کے علاقے میاں عیسیٰ میں غیرت کے نام پر ایک خاتون کو مبینہ طور پر انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق بیوہ خاتون کو اس کے سگے بھائیوں نے پسند کی شادی کرنے پر نشانہ بنایا جہاں مقتولہ کو پہلے سنگسار کیا گیا اور پھر فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے واردات کے بعد مقتولہ کی لاش کے ٹکڑے کرکے بوری میں بند کیے اور شواہد مٹانے کی غرض سے لاش کو دریا میں پھینک دیا۔
ڈی ایس پی کے مطابق مقتولہ تسمیہ گزشتہ ماہ29 مئی کو اپنے بھائیوں کے گھر گئی تھی جس کے بعد سے وہ لاپتا تھی، جس پر مقتولہ کے شوہر فضل رحمان کی درخواست پر تھانے میں واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمے کے مرکزی ملزم اور مقتولہ کے بڑے بھائی شیرباز خان کو گرفتار کر لیا ہے جس نے دورانِ تفتیش اپنی بہن کو غیرت کے نام پر قتل کرنے اور لاش کے ٹکڑے دریا برد کرنے کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوامیں سیکرٹری سیکیورٹی سمیت گریڈ 19 کے افسران کے تبادلے
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کی باقیات کی تلاش کے لیے ریسکیو، محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ اداروں کی مدد سے سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے جبکہ واقعے میں ملوث دیگر کرداروں اور مزید شواہد کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔





