پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے سابق فاٹا اور پاٹا میں صوبے کے زیرانتظام تمام ٹیکس واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی اضلاع کے لیے 10 سالہ ٹیکس استثنیٰ بحال کیا جائے اور انضمام کے وقت کیے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں۔
وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس نفاذ کے معاملے پر صوبائی حکومت کے زیر اہتمام گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، مسلم لیگ، جماعت اسلامی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، تاجر برادری اور دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا 9ماہ میں لنڈی کوتل کا دورہ نہ کرنا عوامی حلقوں کے لیے سوالیہ نشان بن گیا
گرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس نفاذ کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں اور تاجر برادری کا متفقہ مؤقف سامنے آنا خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے آئینی اور معاشی حقوق کے حصول کے لیے حکومت اور اپوزیشن ایک صفحے پر ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ اس سے قبل بھی سی این جی اور گندم سمیت دیگر اہم معاملات پر تمام سیاسی قوتیں متحد ہوئیں، جبکہ اب صوبے کے حقوق کے لیے بھی وفاق سے مضبوط دلائل کے ساتھ بات کی جائے گی۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ سابق فاٹا کے لیے 100 ارب روپے سالانہ فراہم کرنے کا وفاقی وعدہ تاحال پورا نہیں کیا گیا، ایسے حالات میں وعدے مکمل کیے بغیر قبائلی علاقوں میں ٹیکس نافذ کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا کے تاجروں کو ملک کے دیگر بڑے شہروں کے تاجروں جیسی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔
گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ ہے اور صوبے کے حقوق اور مفادات کے ہر معاملے پر صوبائی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے مسائل پر پہلے اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا، پھر وفاق کے سامنے مؤثر انداز میں آواز اٹھائی جائے گی۔
جرگے میں منظور کی گئی قراردادوں میں سابق فاٹا اور پاٹا کے عوام کو درپیش مسائل پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ قبائلی علاقوں کو بدامنی، دہشت گردی، نقل مکانی، جانی و مالی نقصانات، بے روزگاری، پسماندگی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا اسمبلی میں سابقہ فاٹا اور پاٹا میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور
قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کے مطابق قبائلی علاقوں کو سالانہ فنڈز فراہم نہیں کیے گئے اور نہ ہی این ایف سی میں مناسب حصہ دیا گیا۔ اس لیے ٹیکسوں کا نفاذ انضمام کے بنیادی مقصد اور عوام سے کیے گئے وعدوں کے خلاف ہے۔
جرگے میں خیبرپختونخوا حکومت نے سابق فاٹا اور پاٹا سے صوبے کے زیرانتظام تمام ٹیکس واپس لینے کا اعلان کیا، جبکہ وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ سابق فاٹا اور پاٹا میں عائد تمام وفاقی ٹیکس بھی فوری طور پر واپس لیے جائیں۔
قرارداد میں 10 سالہ ٹیکس استثنیٰ مکمل طور پر بحال کرنے، انضمام کے وقت کیے گئے مالی، ترقیاتی اور امن سے متعلق تمام وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ شرکا نے واضح کیا کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں باہمی مشاورت سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔





