امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگی صورتحال، سخت اقتصادی پابندیوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایرانی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں ایرانی ریال تاریخ کی کم ترین سطح پر جا پہنچا۔
مارکیٹ کے حالیہ اعدادوشمار کے مطابقاگرچہ اب ریال کی قدر میں کچھ بہتری دیکھی جا رہی ہے لیکن ایرانی کرنسی اب بھی تاریخی اعتبار سے انتہائی کمزور سطح پر ٹریڈ کر رہی ہے۔
رواں سال اپریل 2026 میں جب جنگی کشیدگی اپنے عروج پر پہنچی تو اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت ریکارڈ 18 لاکھ 10 ہزار ایرانی ریال تک جا پہنچی تھی جو ایرانی کرنسی کی تاریخ کا بدترین زوال ہے۔
اس بحران کے دوران سرمایہ کاروں نے مقامی کرنسی پر اعتماد کھو کر بڑے پیمانے پر ڈالر اور سونے کی خریداری شروع کر دی تھی۔
بعد ازاں جنگ بندی، محدود سفارتی رابطوں اور ایران کے مرکزی بینک کی جانب سے زرمبادلہ مارکیٹ میں مداخلت کے باعث ریال میں جزوی استحکام آیا۔ موجودہ صورتحال میں ڈالر کے مقابلے میں ریال اپریل کی ریکارڈ کم ترین سطح سے کچھ بہتر ضرور ہوا ہے تاہم یہ اب بھی گزشتہ برسوں کے مقابلے میں شدید مندی کا شکار ہے۔
ماہرین کے مطابق ایرانی ریال کی قدر میں اس ریکارڈ کمی کی بنیادی وجوہات میں امریکی پابندیاں، غیر ملکی سرمایہ کاری میں رکاوٹیں، تیل کی برآمدات پر دباؤ، مہنگائی میں مسلسل اضافہ اور ڈالر کی شدید طلب شامل ہیں۔ حالیہ جنگ نے ان دیرینہ معاشی مسائل کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھتے ہی گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بڑا اضافہ
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ریال اپنی تاریخی کم ترین سطح سے کچھ سنبھل چکا ہے لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایرانی کرنسی بحران سے نکل آئی ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو ریال ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے، جبکہ سفارتی پیش رفت اور پابندیوں میں نرمی ہی اسے مستقل سہارا دے سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار اور مالیاتی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔





