اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی بیانیے اور دباؤ پر مبنی بیانات سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقائق تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کی جانب سے قانونی حقائق کو تبدیل کرنے کی مسلسل کوششیں حقیقت کو نہیں بدل سکتیں۔ ان کے مطابق بھارتی وزیر دفاع کے غیر ذمہ دارانہ بیانات خطے میں امن، استحکام اور بامعنی مذاکرات کے لیے معاون نہیں ہیں۔
India’s continued attempts to rewrite internationally recognised legal realities through coercive rhetoric cannot alter the facts. Pakistan categorically rejects the irresponsible remarks made by the Indian Defence Minister. Such statements reflect a continued attempt to distort…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) July 26, 2026
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جس کے حتمی حل کا تعین متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کے الزامات اس کے اپنے مبینہ ریکارڈ کے باعث قابلِ اعتبار نہیں، جبکہ بھارت پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں : کینسر مریض افغان شہری کی درخواست، پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا
پاکستانی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ بھارت کا جارحانہ بیانیہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے اور اس سے ریاستوں کے درمیان تنازع کے امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق پاکستان امن اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے، تاہم ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے عزم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کا بیان اندرونی سیاسی مسائل، بڑھتی ہوئی بے چینی اور حکومت کے طرزِ حکمرانی پر ہونے والی تنقید سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔





