پاکستان کی 52 فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ، پاکستان کی بدقسمتی یہ کہ قانون بن جاتے ہیں لیکن ان پر عمل نہیں ہوتا،مہرسلطانہ ایڈووکیٹ
سابق ایم پی اے پی پی پی مہر سلطانہ ایڈووکیٹ نے پختون ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی 52 فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے ، خواتین اور مردوں کی جو حقوق ہے پر کام ہونا چاہیے ۔اوراسپیشلی خواتین کے جو حقوق ہے ان کو اپنے حقوق دینے چاہیے ۔
انہوں نے کہاکہ عالمی سطح پر جو سروے ہوا ہے اور اس میں پاکستان کا 145 ویں نمبر پر آناافسوسناک ، لازمی بات ہے کہ امیچ خراب جائیگا۔لیکن ابھی پاکستان کے گورنمنٹ اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کی نمائندگی اور مواقع پیداکرنے چاہیے جس کی وجہ سے وہ بھی ترقی کی راہ میں شامل ہوجائیں ۔
انہو ںنے کہاکہ پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ قانون بن جاتے ہیں لیکن ان پر عمل نہیں ہوتا۔ اہم بات یہ ہے کہ خواتین کے حقوق پر کام شروع ہو چکا ہے جو کہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں تو انہوں نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ خواتین پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔





