عمران خان بھی علی امین گنڈاپور کو عہدے سے نہیں ہٹا سکتے، سینئر صحافی عارف یوسفزئی

پشاور۔ سینئر صحافی عارف یوسفزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ عید کے بعد خیبر پختونخوا کی کابینہ میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں اور یہاں تک کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو بھی ہٹایا جا سکتا ہے۔

تاہم، گنڈاپور کو پارٹی کے فاروڈ بلاک کے 35 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے، جس کے باعث عمران خان بھی انہیں عہدے سے نہیں ہٹا سکتے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اگر عمران خان کے حکم پر علی امین گنڈاپور خود مستعفی ہوجائیں تو وہ الگ بات ہے لیکن سیاسی طور پر عمران خان کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ علی امین گنڈاپور کو وزیراعلیٰ کے منصب سے ہٹا سکیں۔

پختون ڈیجیٹیل پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تیمور سلیم جھگڑا کابینہ میں واپسی کے لیے سرگرم ہیں، تاہم ’بعض حلقوں‘ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ انہیں اور شوکت یوسفزئی سمیت کئی دیگر رہنماؤں کو کابینہ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

سینئر صحافی عارف یوسفزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبائی کابینہ سے وزرا کو نکالنے کے لیے اندرونی احتساب کمیٹی قائم کی گئی ہے، مذکورہ کمیٹی کا مقصد کارکردگی کا جائزہ لینا اوراحتساب کرنا نہیں بلکہ یہ وزار کو کابینہ سے نکالنے کا جواز فراہم کرے گی تاکہ پارٹی میں اختلافات اور گروپ بندی سے بچا جاسکے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کوئی بھی رہنما عمران خان کی رہائی کے لیے سنجیدہ نہیں اور یہاں تک کہ پوری پارٹی بھی مل کر انہیں رہا نہیں کرا سکتی اور نہ ہی تحریک انصاف کے رہنما یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان باہر آئیں کیونکہ ان کے جیل میں رہنے سے بہت سے لوگ بڑے لیڈر بن گئے ہیں اگر وہ باہر آجائیں تو ان کاسیاسی وجود خطر میں پڑ سکتا ہے۔ اگر کوئی عمران خان کو رہا کراسکتا ہے تو وہ صرف عمران خان خود ہیں۔

Scroll to Top