جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) نے انسانی زندگی میں بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں اس کا منفی استعمال ڈیپ فیک کی شکل میں ایک سنگین خطرہ بن کر ابھرا ہے، جس نے عام شہریوں سے لے کر اہم شخصیات تک کے لیے پریشانیاں کھڑی کر دی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈیپ فیک دراصل مصنوعی ذہانت کی جدید ترین شاخوں یعنی جنریٹیو اے آئی اور ڈیپ لرننگ کا استعمال کرتے ہوئے تیار کردہ جعلی مواد ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی مدد سے دھوکہ باز اور عناصرِ ناپسندیدہ کسی بھی حقیقی شخص کے چہرے، آواز، حرکات اور اندازِ گفتگو کی ہو بہو نقل کر کے ایسی تصاویر، ویڈیوز اور آڈیوز تخلیق کرتے ہیں جو بظاہر سو فیصد اصلی معلوم ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کی غیر معیاری رپورٹس پر ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کا بڑا فیصلہ
عام صارف کے لیے یہ جاننا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے کہ سامنے آنے والا مواد حقیقت پر مبنی ہے یا سراسر جعل سازی،اس ٹیکنالوجی کا دائرہ کار صرف تصاویر اور ویڈیوز تک محدود نہیں ہے، بلکہ “وائس کلوننگ” یا ڈیپ فیک آڈیو کے ذریعے کسی بھی شخص کی آواز کو ہو بہو نقل کر کے جھوٹے بیانات یا آڈیو پیغامات بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔





