پشاور کے تدریسی اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی غیر حاضری کا انکشاف

سلمان یوسفزئی
پشاور کے بڑے سرکاری تدریسی اسپتالوں میں سینئر ڈاکٹرز اور تکنیکی عملے کی ڈیوٹی کے دوران عدم دستیابی کی شکایات سامنے آئی ہیں جبکہ انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ میں بھی ڈاکٹرز کی غیر حاضری کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے سرکاری اسپتالوں میں زیر علاج مریضوں اور ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات سینئر کنسلٹنٹس صرف صبح کے اوقات میں راؤنڈ لگانے کے بعد دستیاب نہیں ہوتے اور مریضوں کی دیکھ بھال زیادہ تر ٹرینی ڈاکٹرز کرتے ہیں۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے گل محمد کے والد گزشتہ سات روز سے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ گل محمد کے مطابق سینئر کنسلٹنٹس صبح کے وقت راؤنڈ کے بعد چلے جاتے ہیں، جبکہ زیادہ تر وقت مریضوں کو ٹرینی ڈاکٹرز ہی دیکھتے ہیں۔

مریضوں کے مطابق لیڈی ریڈنگ اسپتال، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور خیبر ٹیچنگ اسپتال میں بعض سینئر ڈاکٹرز سرکاری اسپتالوں میں دستیاب نہیں ہوتے، تاہم اپنے نجی کلینکس میں باقاعدگی سے موجود ہوتے ہیں۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں حال ہی میں ایک ڈاکٹر کے خلاف مبینہ طور پر سرکاری فرائض انجام نہ دینے اور نجی کلینک کو زیادہ وقت دینے پر کارروائی بھی کی گئی۔ اسپتال انتظامیہ نے ڈاکٹر کی برطرفی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ ملازمین کی حاضری اور سرکاری ذمہ داریوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

دوسری جانب انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کی 2025 کی ہیلتھ پرفارمنس رپورٹ کے مطابق مانیٹر کیے گئے 390 ڈاکٹرز میں سے 228 ڈیوٹی سے غیر حاضر پائے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑے شہری مراکز میں حاضری کی صورتحال نسبتاً بہتر رہی تاہم دور دراز علاقوں کے اسپتالوں اور صحت مراکز میں غیر حاضری زیادہ رہی۔

تاہم اسپتال انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر ڈاکٹرز کی غیر حاضری کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق سینئر ڈاکٹرز اور کنسلٹنٹس 24 گھنٹے دستیاب ہوتے ہیں بالخصوص ایمرجنسی میں جبکہ اسپتال میں سپورٹ اسٹاف سے لے کر اسپتال ڈائریکٹر تک ملازمین کی حاضری کے لیے خودکار نظام موجود ہے۔

خیبر ٹیچنگ اسپتال کے ترجمان سجاد خان نے بھی کہا کہ ڈاکٹرز اور کنسلٹنٹس 24 گھنٹے دستیاب رہتے ہیں۔ ان کے مطابق کنسلٹنٹس مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ خیبر میڈیکل کالج میں تدریسی ذمہ داریاں بھی انجام دیتے ہیں۔

محکمہ صحت کے ایک سینئر ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بعض مسائل میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز کے نظام سے بھی منسلک ہیں۔ ان کے مطابق بعض اوقات سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر ڈاکٹرز کے ساتھ مختلف رویہ اختیار کیے جانے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔

مریضوں کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں سینئر ڈاکٹرز کی عدم دستیابی کا سب سے زیادہ اثر ان خاندانوں پر پڑتا ہے جو نجی اسپتالوں یا کلینکس میں علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کی بیوروکریسی میں اہم تبادلے، نوٹیفکیشن جاری

مریضوں نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ حاضری اور مانیٹرنگ نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ ڈاکٹرز سرکاری ڈیوٹی کے اوقات میں مریضوں کی دستیابی اور علاج کو یقینی بنائیں۔

Scroll to Top