امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مذاکرات کے لیے مقرر کردہ 60 روز کی ڈیڈ لائن ختم ہوگئی تاہم دونوں ممالک کے درمیان بات چیت شروع نہ ہوسکی، امریکی حکام کے مطابق مذاکرات کیلئے پاکستان اور قطر کی کوششیں اب بھی جاری ہیں ۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں 60 روز کی مدت پابندیوں کے خاتمے اور جوہری معاملے پر مذاکرات کے لیے مقرر کی گئی تھی، تاہم امرہکا کی جانب سے یادداشت کی خلاف ورزی کے باعث مذاکرات شروع ہی نہیں ہوسکے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری ہیں اور ان کے علاوہ کوئی اور ثالث موجود نہیں
دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کھولنے کو امریکہ کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے مشروط کردیا ہے۔
دریں اثنا ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران وقار اور طاقت کے ساتھ امریکہ کے ساتھ امن کی مفاہمتی یادداشت تک پہنچا تھا اور معاہدہ طے کرتے وقت علی خامنہ ای کے وضع کردہ اصولوں کو مدنظر رکھا گیا۔





