وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکنالوجی کے شعبے میں مقامی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور عالمی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری بڑھانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ ’اے آئی سیکھو 2026‘ پروگرام میں 17 ہزار سے زائد ٹیموں نے رجسٹریشن کرائی، جن میں 25 فیصد خواتین شامل تھیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گوگل کا دفتر کھلنا ملک کے ٹیک ٹیلنٹ کیلئے اہم پیش رفت ہے، جس سے مقامی اور عالمی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان میں مقامی طور پر تیار کردہ کروم بکس کی علاقائی ممالک کو برآمدات کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، جبکہ گوگل اور دیگر عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تعاون سے پاکستان میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئے دور کا آغاز ہوگا۔
شزا فاطمہ نے بتایا کہ تقریباً 50 ہزار ڈویلپرز کو گیمنگ، اینیمیشن اور دیگر مختلف شعبوں میں تربیت دی جاچکی ہے، جبکہ ایپس اور ایپ ڈیزائن سے متعلق ماسٹر کلاسز بھی منعقد کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں الیکٹرک بائیکس اور اسکوٹرز کی نئی رینج متعارف
انہوں نے کہا کہ ’ڈیجیٹل سفر‘ پروگرام کے تحت صحافیوں کو آن لائن سیفٹی سمیت مختلف موضوعات پر تربیت فراہم کی گئی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گوگل کے ساتھ شراکت داری پاکستان کے ٹیک ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے، مقامی ٹیلنٹ کی صلاحیتیں بڑھانے اور عالمی ٹیک کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروباری موجودگی کیلئے راغب کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ آئی ٹی برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ صرف جولائی میں 417 ملین ڈالر کی آئی ٹی برآمدات ریکارڈ کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے آئی ٹی برآمدات اس لیے بھی اہم ہیں کہ ان میں تقریباً 85 سے 86 فیصد ٹریڈ سرپلس ہوتا ہے اور اس شعبے کیلئے بھاری درآمدی مشینری کی ضرورت نہیں پڑتی۔





