مقبوضہ کشمیرسے متعلق امریکی سفیر کے بیان پر پاکستان کا شدید احتجاج، امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

مقبوضہ کشمیرسے متعلق امریکی سفیر کے بیان پر پاکستان کا شدید احتجاج، امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے کے دوران امریکی سفیر برائے بھارت سرجیو گور کے مقبوضہ وادی کی حیثیت سے متعلق حقائق کے منافی بیان پر شدید احتجاج کیا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کر کے باضابطہ طور پر سخت ڈیمارش جاری کیا گیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے امریکی سفیر کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو ’بھارت کا حصہ‘ قرار دینے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس موقف کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان نے امریکی حکام پر واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازع علاقہ ہے، جس کے حتمی مستقبل کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی سفیر کا یہ غیر ذمہ دارانہ بیان مسئلہ کشمیر پر امریکا کے دیرینہ موقف کی صریحاً نفی کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی بالادستی کے حوالے سے امریکی عزم کے بھی منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پہلا ٹیسٹ: انگلینڈ کے خلاف پہلی اننگز میں پاکستانی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوگئی

پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاک بھارت ثالثی کی پیشکش کو سراہتے ہوئے امریکی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے عوامی بیانات جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت سے مکمل مطابقت رکھتے ہوں۔

Scroll to Top