وفاقی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے، نوٹیفکیشنز جاری

وفاقی حکومت نے سول سروسز اور انتظامی شعبوں میں بڑی سطح پر اکھاڑ پچھاڑ کرتے ہوئے متعدد افسران کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاری کر دیے ہیںجس کے باضابطہ نوٹیفکیشنز اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے جاری کر دیے ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق مذہبی امور ڈویژن میں چیف فنانس افسر کے اہم عہدے پر تبدیلی کی گئی ہے۔ پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس کے گریڈ 20 کے افسر ذوالفقار خان کا تبادلہ کر کے ان کی خدمات واپس آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے سپرد کر دی گئی ہیں جبکہ ان کی جگہ تقرری کے منتظر اسی سروس کے گریڈ 20 کے افسر وسیم ارشد کو نیا چیف فنانس افسر مذہبی امور ڈویژن تعینات کر دیا گیا ہے۔

وزارتِ وفاقی تعلیم میں تعینات ڈپٹی سیکریٹری اسد اختر عباس کو نیشنل ٹیلنٹ پول منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ڈپٹی سیکریٹری غلام خالق کی خدمات پنجاب حکومت کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسران میں بھی اہم تبادلے کیے گئے ہیں جن میں خیبرپختونخوا میں تعینات گریڈ 19 کے افسر عون حیدر گوندل اور اسلام آباد انتظامیہ کے گریڈ 18 کے افسر فرحان احمد شامل ہیں،دونوں کی خدمات حکومت پنجاب کے سپرد کی گئی ہیں۔

وفاقی وزارتِ صحت کے ڈاکٹر فہد خالد کا تبادلہ کر کے انہیں خیبرپختونخوا حکومت کے سپرد کر دیا گیا ہے جبکہ بلوچستان کے محکمہ صحت کی فارماسسٹ مدیحہ خاتون کا وفاق میں تبادلہ کرتے ہوئے انہیں اسلام آباد میں قائم قومی ادارہ برائے بحالی طب میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر تعینات کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ صوبہ خیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم سے دو افسران کی خدمات وفاق کو منتقل کی گئی ہیں، جن میں سبجیکٹ اسپیشلسٹ اکنامکس سمعیہ بشیر کو وفاقی نظامتِ تعلیمات کے تحت اسسٹنٹ پروفیسر اور سبجیکٹ اسپیشلسٹ شہناز نوری کو سیکنڈری اسکول ٹیچر تعینات کیا گیا ہے۔

ایک اور نوٹیفکیشن کے تحت اوورسیز پاکستانیز ڈویژن میں بطور سیکشن افسر فرائض سرانجام دینے والے خالد عمر کا تبادلہ کر کے ان کی خدمات اینٹی نارکوٹکس فورس ڈویژن کو واپس کر دی گئی ہیں۔

Scroll to Top