سرحد یونیورسٹی کی طالبہ کے سنسنی خیز انکشافات، یونیورسٹی کے اندرونی سکینڈلز بے نقاب

سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کا معاملہ: طالبہ کی آڈیو نے اندرونی سکینڈلز بھی بے نقاب کردیئے

اسلام آباد میں سرحد یونیورسٹی کے واقعے کا احاطہ کرتی ایک طالبہ کی آڈیو سامنے آئی ہے ، آڈیو میں نہ صرف پورے واقعے کو لمحہ بہ لمحہ بیان کیا گیا ہے بلکہ ڈاکٹر جدون کی سیاست کی وجہ سےیونیورسٹی کو ہونے والے نقصانات کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے، اپنے آڈیو میں طالبہ بتا رہی ہیں کہ یونیورسٹی میں کوئی رولز نہیں ہیں ،یونیورسٹی میں جدون کے برائے نام بچے ہیں اس کے پسندیدہ طلبا ہیں جن کیساتھ وہ ہاسٹل میں بھی رہائش پزیر ہیں ۔

اسلام آباد:سرحدی یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں پیش آنے والے ہنگامہ خیز واقعے اور فیکلٹی کے اندرونی تنازع کے حوالے سے ا کی  آڈیو میں یونیورسٹی کے اندرونی معاملات اور مبینہ سکینڈلز سے پردہ اٹھا دیا ہے۔

آڈیو بیان کے مطابق یونیورسٹی میں کیمپس کی سطح پر ڈاکٹر جدون کی مبینہ سیاست اور اثر و رسوخ کی وجہ سے قواعد و ضوابط شدید متاثر ہو رہے ہیں، طالبہ کا دعویٰ ہے کہ یونیورسٹی میں ڈاکٹر کے پسندیدہ طلبہ مبینہ طور پر بغیر باقاعدہ کلاسز اور امتحانات کے انتہائی زیادہ جی پی اے حاصل کر رہے ہیں، جبکہ کیمپس میں رولز نامی کوئی چیز نہیں چھوڑی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب میڈم آئنہ نے یونیورسٹی کے سابقہ نظم و ضبط کو ختم کرکے نئے رولز بحال کرنے، وقت پر فیسوں کی ادائیگی اور قواعد سختی سے نافذ کرنے کی کوشش کی۔

طالبہ کا اپنی آڈیو میں کہنا ہے کہ دو سال سے غلط ماحول کے عادی کچھ طلبہ نے اس پر احتجاج شروع کر دیا۔ جمعہ کے روز ایک واقعے کے دوران ڈاکٹر جدون نے مبینہ طور پر میڈم آئنہ کو دھمکیاں دیں۔

طالبہ نے کہا کہ اس کے بعد ڈاکٹر جدون نے مبینہ طور پر طلبہ کو ورغلایا، ان سے دندے اور اسلحہ لانے کا کہا، اور یونیورسٹی کی چابیاں تک غائب کروائیں تاکہ کیمپس کو تالا لگایا جا سکے، پیر کے روز جب احتجاج کے دوران میڈم آئنہ کو اندر جانے سے روکا گیا اور ہراساں کیا گیا، تو انہوں نے اپنے شوہر اور آرمی افسر کرنل اسفندیار کو مدد کے لیے بلایا۔

آڈیو میں بتایا گیا ہے کہ آرمی افسر کے یونیفارم میں آنے کے باوجود مشتعل طلبہ نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی اور دھکم پیل کی، جس پر اپنی اہلیہ کے دفاع اور سلامتی کے لیے آرمی افسر کو مجبوری میں ہوائی فائرنگ کرنا پڑی۔

طالبہ کے مطابق صورتحال انتہائی بگڑ چکی تھی اور اس واقعے کی تمام ذمہ داری یونیورسٹی کے اندرونی ماحول اور ڈاکٹر جدون کی مبینہ سیاست پر عائد ہوتی ہے۔

Scroll to Top