اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی کم از کم مجموعی ماہانہ تنخواہ 37 ہزار روپے سے بڑھا کر 40 ہزار 700 روپے مقرر کردی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق نئے فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری آفس میمورنڈم کے مطابق جن ملازمین کی مجموعی تنخواہ نئی مقرر کردہ حد 40 ہزار 700 روپے سے کم ہے، انہیں اس حد تک پہنچانے کے لیے فرق کی رقم خصوصی الاؤنس کی صورت میں ادا کی جائے گی۔
اس فیصلے کا اطلاق وفاقی حکومت کے تمام سول ملازمین، دفاعی بجٹ سے تنخواہ لینے والے سویلین ملازمین، کنٹی جنٹ بنیادوں پر کام کرنے والے عملے اور سول عہدوں پر بنیادی پے اسکیلز کے تحت مقررہ شرائط و ضوابط پر کام کرنے والے کنٹریکٹ ملازمین پر ہوگا۔
وزارت خزانہ کے مطابق یکم جولائی 2026 سے مزید احکامات تک 40 ہزار 700 روپے سے کم مجموعی تنخواہ لینے والے ملازمین کو خصوصی الاؤنس دیا جائے گا۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ خصوصی الاؤنس انکم ٹیکس کے تابع ہوگا اور چھٹی کے دوران بھی قابلِ ادائیگی رہے گا۔ مکمل رخصت یعنی ایل پی آر کے دوران بھی ملازمین کو یہ الاؤنس ملے گا، تاہم غیر معمولی رخصت کے دوران خصوصی الاؤنس ادا نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کی امید، خام تیل کی قیمتوں میں کمی
وزارت خزانہ کے مطابق خصوصی الاؤنس کو پینشن یا گریجویٹی کے حساب کے لیے قابلِ پینشن مراعات میں شامل نہیں کیا جائے گا، جبکہ مکان کے کرائے کی وصولی کے حساب میں بھی اس الاؤنس کو شمار نہیں کیا جائے گا۔
بیرون ملک تعیناتی یا ڈیپوٹیشن کے دوران ملازمین خصوصی الاؤنس کے حقدار نہیں ہوں گے۔ تاہم بیرون ملک تعیناتی یا ڈیپوٹیشن مکمل ہونے کے بعد پاکستان واپس آنے والے ملازمین کو وہی شرح اور رقم الاؤنس کی صورت میں دی جائے گی جو بیرون ملک تعیناتی نہ ہونے کی صورت میں انہیں ملنی تھی۔
وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ کم از کم تنخواہ میں اضافے اور خصوصی الاؤنس کے باعث مالی سال 2026-27 میں ہونے والے اضافی اخراجات متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور محکموں کو اپنے موجودہ بجٹ مختصات میں سے پورے کرنا ہوں گے۔
وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ اس مقصد کے لیے کوئی ضمنی گرانٹ جاری نہیں کی جائے گی۔ یوں وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے کم از کم مجموعی ماہانہ تنخواہ 40 ہزار 700 روپے مقرر ہوگئی ہے، تاہم اضافی رقم خصوصی الاؤنس کی شکل میں دی جائے گی اور اسے پینشن کے لیے قابلِ شمار بنیادی مراعات کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔





