اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن نرسری وارڈ میں جان لیوا آتشزدگی سے متعلق سی ڈی اے فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی رپورٹ سامنے آگئی، جس میں اسپتال کے فائر اور لائف سیفٹی انتظامات کو ناکافی اور مقررہ معیار کے مطابق نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سی ڈی اے رپورٹ کے مطابق نرسری وارڈ میں آگ بجلی کے شارٹ سرکٹ یا پلگ اوور لوڈنگ کے باعث لگی۔ آتشزدگی کی اطلاع صبح 6 بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے صرف 6 منٹ بعد فائر بریگیڈ کی پہلی گاڑی اور ریسکیو وین جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔
سی ڈی اے اسلام آباد نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی۔۔ انتظامات درست نہیں تھے۔۔ محفوظ راستوں میں رکاوٹیں تھین۔۔ عملے نے رکاوٹ پیدا کی ۔۔۔#pimsfire pic.twitter.com/L1UZXDjsBM
— Shawaiz Tahir (@KalyarShawaiz) August 26, 2026
رپورٹ کے مطابق فائر اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نرسری وارڈ سے 7 بچوں سمیت 19 افراد کو بحفاظت نکالا، تاہم آتشزدگی کے نتیجے میں 7 بچے جاں بحق ہوگئے۔ متاثرہ افراد میں 7 بچے، 10 خواتین اور 2 مرد شامل تھے۔
سی ڈی اے کی رپورٹ میں پمز نرسری وارڈ کے فائر اور لائف سیفٹی انتظامات پر اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق متعدد حفاظتی انتظامات مقررہ معیار کے مطابق نہیں تھے، جبکہ ہنگامی اخراج کے راستے مستقل طور پر باہر سے لاک ہونے کے ساتھ مختلف رکاوٹوں کا بھی شکار تھے۔
یہ بھی پڑھیں : سانحہ پمز؛ وزیراعظم نے وفاقی سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں اخراج کے راستوں کی یہ صورتحال جان بچانے کی کارروائیوں میں رکاوٹ بن سکتی تھی۔
سی ڈی اے کے مطابق اسپتال کے سیکیورٹی عملے کی جانب سے فائر عملے کے ابتدائی ریسپانس میں بھی رکاوٹ پیدا ہوئی، جبکہ آتشزدگی کے مقام پر ہجوم کو کنٹرول کرنے کے انتظامات بھی ناکافی پائے گئے۔
رپورٹ کے مطابق آگ بجھانے اور ریسکیو آپریشن میں 6 فائر ٹینڈرز، 6 ایمبولینسز اور ایک ریسکیو وین نے حصہ لیا، جبکہ آپریشن کے لیے واٹر باؤزر سمیت 44 آپریشنل اہلکار اور 6 افسران تعینات کیے گئے۔
سی ڈی اے کے مطابق جی 10، آئی 9، جی 5 اور ایف ایچ کیو کی ٹیمیں بھی آتشزدگی کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچیں اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔
رپورٹ میں پمز نرسری کے فائر اور لائف سیفٹی انتظامات کی ناکافی صورتحال، ہنگامی اخراج کے راستوں کے لاک ہونے اور دیگر حفاظتی خامیوں کی نشاندہی نے اسپتال کے حفاظتی نظام پر اہم سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔





