زرعی یونیورسٹی پشاور میں ایچ ای سی سکالرشپ فنڈز کا معاملہ، محتسب خیبر پختونخوا کا نوٹس

رانی عندلیب
پشاور: زرعی یونیورسٹی پشاور میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے نیڈ بیسڈ سکالرشپ فنڈز کے مبینہ استعمال اور مستحق طالب علم کی ڈگری روکے جانے سے متعلق معاملے پر صوبائی محتسب خیبر پختونخوا نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور رجسٹرار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق بی ایس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک طالب علم کے لیے 76 ہزار 470 روپے کے ایچ ای سی نیڈ بیسڈ سکالرشپ فنڈز منظور ہوئے، جو یونیورسٹی کے فنانس آفس میں موجود ہیں۔

تاہم طالب علم کا مؤقف ہے کہ متعلقہ سکالرشپ آفس نے ان فنڈز کو اس کے واجب الادا ہاسٹل فیس میں ایڈجسٹ کرنے سے انکار کردیا، جس کے باعث اس کی فائنل ڈگری کا اجرا روک دیا گیا۔

طالب علم کے مطابق سکالرشپ کمیٹی کے اجلاس کے منٹس میں فنڈز جاری نہ کرنے کی وجہ یونیورسٹی کو درپیش مالی بحران کو قرار دیا گیا ہے۔

شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایچ ای سی کی جانب سے مستحق طلبہ کے لیے مختص فنڈز کو یونیورسٹی کے مالی مسائل سے مشروط نہیں کیا جاسکتا۔

معاملے کا ایک اور پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ طالب علم پر مبینہ طور پر زرعی یونیورسٹی ہی کے ایم ایس پروگرام میں داخلہ لینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ طالب علم کا دعویٰ ہے کہ سکالرشپ فنڈز کی ایڈجسٹمنٹ کو نئے پروگرام میں داخلے سے مشروط کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : گومل یونیورسٹی میں 71 بھرتیوں و ترقیوں پر سنگین سوالات، تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر

شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی محتسب سیکریٹریٹ خیبر پختونخوا کے ایڈوائزر-II نے وائس چانسلر اور رجسٹرار کو نوٹس نمبر PO/Complaint/2346/07/2026 جاری کیا۔

ذرائع کے مطابق مقررہ مدت میں تسلی بخش جواب موصول نہ ہونے کے بعد معاملہ دوسرے نوٹس کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔

متاثرہ طالب علم نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوامحمد سہیل خان آفریدی، بطور چانسلر، اور چیئرمین ایچ ای سی سے معاملے کی فوری اور شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

طالب علم نے مطالبہ کیا ہے کہ ایچ ای سی فنڈز سے ہاسٹل کے واجبات فوری طور پر ایڈجسٹ کرکے ڈگری جاری کی جائے، ایم ایس پروگرام میں داخلے کی مبینہ شرط ختم کی جائے، واجبات کی کٹوتی کے بعد بچنے والی رقم طالب علم کو دی جائے اور مبینہ طور پر ذمہ دار افراد کا تعین کرکے محکمانہ کارروائی کی جائے۔

متاثرہ طالب علم کا کہنا ہے کہ اگر یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملہ حل نہ کیا تو وہ اپنے قانونی حق کو استعمال کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرے گا۔

نوٹ: مذکورہ الزامات اور دعوے طالب علم کی شکایت اور فراہم کردہ دستاویزات پر مبنی ہیں؛ یونیورسٹی انتظامیہ کا مؤقف اس خبر میں شامل نہیں، اور صوبائی محتسب کی جانب سے جاری کارروائی میں حتمی فیصلہ سامنے آنا باقی ہے۔

Scroll to Top