نیپال: نیپال میں بدھ کو آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 626 ہوگئی ہے، جبکہ تقریباً 2 ہزار افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 626 ہونے کی تصدیق کی ہے۔ نیپال اور اس کے پڑوسی علاقے تبت میں درجنوں غیر ملکیوں سمیت ہزاروں افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ہمالیہ کے پہاڑی علاقے میں گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد بڑی مقدار میں پانی، برف، چٹانیں، کیچڑ اور ملبہ دریاؤں میں داخل ہوگیا، جس کے نتیجے میں راستے میں آنے والے متعدد دیہات اور وادیاں تباہ ہوگئیں۔ شدید سیلاب سے بجلی گھروں، سڑکوں اور پلوں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
نیپال کے وزیراعظم بیلندرا شاہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ امدادی ٹیموں نے جمعہ کے روز 4 ہزار 451 افراد کو ریسکیو کرلیا۔
نیپالی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ سیلاب سے تباہ ہونے والے انفرااسٹرکچر کی تعمیر نو کے لیے نیپال کو 4 سے 5 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ ان کے مطابق نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے میں وقت لگے گا، تاہم سڑکوں، پلوں اور توانائی کے منصوبوں کو پہنچنے والے نقصانات کے باعث بحالی پر ابتدائی اندازوں کے مطابق اربوں ڈالر خرچ ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : نیپال اور چین کی سرحد پر سیلاب نے تباہی مچادی، 157 افراد ہلاک،380سے زائد لاپتہ
ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق لاپتا افراد میں تقریباً 800 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ نیپالی سیاحتی بورڈ کا کہنا ہے کہ اب تک 121 غیر ملکیوں کو ریسکیو کیا جاچکا ہے، جن میں 2 امریکی شہری بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق نیپال میں سیلاب کے باعث 320 بھارتی شہری بھی لاپتہ ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیمیں بھاری مشینری کی مدد سے ملبے تلے ممکنہ طور پر زندہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ دور دراز علاقوں میں پھنسے افراد تک ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امدادی سامان بھی پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ ریسکیو اہلکاروں نے تربیت یافتہ کتوں کی مدد سے لاشوں کی تلاش بھی کی ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق تبت میں سیلاب کا باعث بننے والی جھیل سے ایک مرتبہ پھر پانی چھلکنا شروع ہوگیا ہے، جس کے بعد تبت اور نیپال کے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔





