وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی آیت نور کے گھر آمد، اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت

حمد اللہ
ہری پور: ہری پور میں وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی آیت نور کے گھر پہنچے، جہاں انہوں نے اہلِ خانہ سے ملاقات کرکے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

وزیرِ اعلیٰ نے آیت نور کے والد سے ملاقات کی، فاتحہ خوانی کی اور غمزدہ خاندان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس موقع پر مقامی ایم پی اے اور وزیرِ اطلاعات شفیع جان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

آیت نور کے والد نے وزیرِ اعلیٰ اور عوام کی جانب سے ملنے والی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بچی کے قتل میں ملوث ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم بچی کے اصل ملزمان کو سرِعام پھانسی دی جانی چاہیے۔

وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے اہلِ خانہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی عوام اس غم میں خاندان کے برابر کی شریک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آیت نور صرف متاثرہ خاندان کی بچی نہیں بلکہ صوبے کی اپنی بچی ہے، جس کے ساتھ انتہائی انسانیت سوز سلوک کیا گیا۔

آیت نور کے گھر میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی آبدیدہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث ملزم کو عبرت کا نشان بنایا جائے گا تاکہ آئندہ کسی کو ایسا جرم کرنے کی جرات نہ ہو اور مجرم جرم کرنے سے پہلے ہزار بار سوچیں۔

یہ بھی پڑھیں : آیت نور کیس: ہری پور میں خواتین کا پُرامن احتجاج، بڑا مطالبہ سامنے رکھ دیا

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑی ہے اور معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انتظامیہ کی موجودگی میں بچے محفوظ نہیں تو پھر ایسے دفاتر کو تالے لگا دینے چاہئیں۔

سہیل آفریدی نے وعدہ کیا کہ واقعے میں ملوث افراد کو کڑی سے کڑی سزا دلوائی جائے گی۔ انہوں نے عدالتوں سے بھی درخواست کی کہ ملزمان کو کسی قسم کا ریلیف نہ دیا جائے۔

وزیرِ اعلیٰ نے مزید اعلان کیا کہ چائلڈ پروٹیکشن بل کو آیت نور کے نام سے منسوب کیا جائے گا، جبکہ سوات چوک کو بھی آیت نور کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس موقع پر آیت نور کے والد وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی سے گلے مل کر آبدیدہ ہوگئے۔

Scroll to Top