لندن: لارڈز میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں قومی کرکٹ ٹیم کی شکست کے بعد ریڈ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد کے مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن، جو ابتدائی طور پر شہزاد چارلس کے عشائیے میں شرکت کے لیے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید کے ہمراہ لندن پہنچے تھے، اب لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کی 194 رنز کی شکست کے بعد ٹیسٹ ٹیم کے معاملات بھی سنبھال سکتے ہیں۔
انگلینڈ نے لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 2-0 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کرلی۔ قومی ٹیم 389 رنز کے ہدف کے تعاقب میں صرف 194 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔
اس سے قبل لیڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں بھی انگلینڈ نے پاکستان کو اننگز اور 103 رنز سے شکست دی تھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے مائیک ہیسن کو ٹیسٹ ٹیم کے معاملات بھی دیکھنے کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستانی طلبا کے لیے امریکا کی معروف جامعات میں تعلیم کے مواقع، بڑا پروگرام متعارف
وہ برمنگھم کے ایجبیسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں 9 ستمبر سے شروع ہونے والے تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے دوران قومی ٹیم کے ساتھ موجود ہوں گے اور ڈریسنگ روم میں بھی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔
پی سی بی کی جانب سے مائیک ہیسن کو ٹیسٹ ٹیم کے معاملات میں شامل کیے جانے کے بعد ریڈ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد کا مستقبل غیر یقینی ہوگیا ہے۔
امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ مائیک ہیسن ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے بعد ٹیسٹ ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داریاں بھی سنبھال لیں گے، جبکہ سرفراز احمد کو انگلینڈ کے دورے کے اختتام پر ریڈ بال ٹیم کی کوچنگ سے ہٹایا جاسکتا ہے۔





