افغان شناخت کے شبہ میں سرکاری ملازمین کی تحقیقات مکمل، سخت کارروائی کا فیصلہ

پشاور: افغان مہاجرین کی شناخت استعمال کرکے سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے کے شبہ میں سرکاری ملازمین کے خلاف تحقیقات کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے، جبکہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبے کے مختلف محکموں میں مختلف گریڈز پر تعینات ایسے ملازمین کی تفصیلات مرتب کی گئی ہیں جن کی شناخت اور دستاویزات کے حوالے سے شکوک و شبہات سامنے آئے تھے۔ تحقیقات کے دوران سیکیورٹی اداروں سے بھی معاونت حاصل کی گئی جبکہ مختلف محکموں کے سربراہان کو پیش رفت سے آگاہ کردیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں مشتبہ سرکاری ملازمین کے بیرون ملک مقیم رشتہ داروں، افغانستان میں موجود قریبی عزیزوں، بیرون ملک سیاسی پناہ حاصل کرنے والے افراد اور افغان مہاجر خاندانوں میں شادیاں کرنے والے ملازمین سے متعلق معلومات بھی جمع کی گئیں اور ان کی جانچ پڑتال کی گئی۔

میٹروپولیٹن، بلدیات اور محکمہ تعلیم سمیت پشاور اور صوبے کے مختلف صوبائی محکموں جبکہ مختلف اضلاع میں تعینات ملازمین کی تفصیلات بھی مرتب کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم شہباز شریف 3 روزہ دورے پر آج کرغزستان روانہ ہوں گے

ذرائع کے مطابق ایسے ملازمین جن کے خلاف افغان شناخت یا پاکستانی شناختی کارڈ کے غلط استعمال کے حوالے سے شواہد سامنے آئے ہیں، انہیں قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد ملازمت سے فارغ کیا جاسکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق بعض ملازمین کو نادرا کی جانب سے پہلے ہی مشکوک شناخت کے معاملے پر نوٹسز جاری کیے جاچکے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد کا تعلق قبائلی اضلاع سے بتایا جاتا ہے، جبکہ بندوبستی اضلاع میں تعینات بعض سرکاری ملازمین کو بھی نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے شناخت اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Scroll to Top