جیلوں میں موجود قیدیوں کا نجی ہسپتال سے علاج بنیادی حق نہیں، نجی ہسپتال میں علاج ’’میڈیکل بورڈ‘‘ کی تجویز کے بغیر نہیں کرایا جاسکتا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بڑا فیصلہ جاری کردیا

جیلوں میں موجود قیدیوں کا نجی ہسپتال سے علاج بنیادی حق نہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے بڑا فیصلہ جاری کردیا

Pakistan SCO Summit 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی تحریک انصاف کی طرح اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی پرائیویٹ ہسپتال سے علاج کی درخواستیں مسترد کردیں، عدالت نے قرار دیا ہے کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے ’’عبوری حکمنامے‘‘ ، کو حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا، عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ جیلوں میں موجود قیدیوں کا نجی ہسپتال سے علاج بنیادی حق نہیں، نجی ہسپتال میں علاج ’’میڈیکل بورڈ‘‘ کی تجویز کے بغیر نہیں کرایا جاسکتا۔

اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں اویس الطاف، الیاس خان اور محمد اسماعیل نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں بھی عمران خان کی طرح نہ صرف نجی اسپتال سے علاج بلکہ بیرون ملک ٹیلیفونک کال کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جائے، عدالت نے درخواستوں پر  27 اگست کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

 عدالت نے قیدی محمد اسماعیل کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے میں لکھا کہ درخواست گزار 2 اگست کا آفس آرڈر غیر قانونی ثابت کرنے میں ناکام رہا، درخواست گزار یہ بتانے میں بھی ناکام رہا کہ اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اگر قیدیوں کے لیے قانوناً واٹس ایپ، ویڈیو کال یا رابطے کا کوئی اور ذریعہ دستیاب ہو تو متعلقہ حکام اس درخواست پر غور کر سکتے ہیں، یہ سہولت جیل کے نظم و ضبط، سکیورٹی تقاضوں اور پاکستان پریزن رولز 1978 کے مطابق ہوگی۔

قیدی اویس الطاف کی نجی ہسپتال میں علاج کے لیے منتقلی کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ کہ قیدی کا جیل کے اسپتال یا سرکاری اسپتال میں علاج نہ ہونے کو میڈیکل بورڈ کی رائے کے بغیر بنیادی حق قرار نہیں دیا جاسکتا۔

عدالت نے کہا کہ اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں میں میڈیکل سہولیات میسر نہ ہونے پر میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جاسکتا ہے، قیدی کا نجی اسپتال میں علاج میڈیکل بورڈ کی تجویز پر ہی ہو سکتا ہے۔

جسٹس محمد آصف نے عمران خان کو ملنے والی سہولت کو عبوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے ’’عبوری حکمنامے‘‘ کو حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

جسٹس محمد آصف نے فیصلے میں مزید لکھا کہ جیلوں میں موجود قیدیوں کا نجی ہسپتال سے علاج بنیادی حق نہیں، نجی ہسپتال میں علاج ’’میڈیکل بورڈ‘‘ کی تجویز کے بغیر نہیں کرایا جاسکتا۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top