شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا دو روزہ سربراہ اجلاس کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شروع ہوگیا،تنظیم کا مرکزی اجلاس آج ہوگا،اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں،چین کے صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت رکن ممالک کے سربراہان شریک ہیں۔
ایس ای او کا یہ اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب خطے کو افغانستان کی سکیورٹی، دہشت گردی، علاقائی کشیدگی، تجارت اور توانائی کے مسائل سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
اجلاس میں علاقائی سلامتی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹرانسپورٹ اور علاقائی رابطوں کو بہتر بنانے کے معاملات بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔ بھارت کی جانب سے بھی سکیورٹی، رابطوں اور معاشی مواقع کو اہم ترجیحات قرار دیا گیا ہے، جبکہ ایران اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، تباہی کا جشن بند کرو: ننگرہار کے شہری کی طالبان رجیم کی سالگرہ ریلی پر سخت تنقید، ویڈیو وائرل
اجلاس میں افغانستان کا معاملہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے تاہم طالبان حکومت کو اس بار بھی سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔
افغانستان کو 2012 سے ایس سی او میں مبصر کا درجہ حاصل ہے لیکن 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے وہ تنظیم کے کسی سالانہ سربراہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
رکن ممالک خصوصاً افغانستان کے ہمسایہ ممالک ملک میں داعش اور دیگر شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔
بشکیک اجلاس شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہورہا ہے۔ تنظیم 2001 میں قائم ہوئی تھی اور اب اس کے 10 مستقل ارکان ہیں، جن میں چین، روس، بھارت، پاکستان، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلاروس شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بشکیک: وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ملاقات، دوطرفہ روابط مضبوط کرنے پر اتفاق
اس اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور ترک صدر رجب طیب اردوان بھی شریک ہیں۔ ترکیہ ایس سی او کا مکمل رکن نہیں بلکہ مکالماتی شراکت دار ہے۔
پاکستان کے لیے اس اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اجلاس کے اختتام پر کرغزستان سے ایس سی او کی آئندہ سال کی گردشی سربراہی پاکستان کو منتقل ہوجائے گی،پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی بھی کرے گا۔





