پشاور: شہر کے سرکاری و نجی ہسپتالوں، میڈیکل کلینکس، تجارتی مراکز، بازاروں اور رہائشی و کمرشل پلازوں میں فائر سیفٹی انتظامات نامکمل ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پشاور کے مختلف سرکاری ہسپتالوں کے وارڈز، نجی ہسپتالوں، میڈیکل پلازوں، نجی کلینکس، بازاروں، بڑے رہائشی پلازوں اور تجارتی مراکز میں فائر سیفٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا، جس دوران متعدد مقامات پر حفاظتی اقدامات میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی طبی اور تجارتی مراکز میں آگ سے بچاؤ کے لیے مطلوبہ انتظامات مکمل نہیں، جبکہ بعض مقامات پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مؤثر انتظامات اور حفاظتی نظام بھی ناکافی ہیں۔
متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایسے مقامات پر فائر سیفٹی قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے حفاظتی انتظامات فوری مکمل کرائیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا پولیس میں اعلیٰ سطح پر تبادلے اور تعیناتیاں
ذرائع کے مطابق پشاور کے بعض اہم سرکاری دفاتر میں بھی فائر سیفٹی کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث ماضی میں متعدد مرتبہ آتشزدگی کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جن کے نتیجے میں اہم سرکاری ریکارڈ بھی ضائع ہوا۔
ذرائع نے بتایا کہ پشاور کینٹ میں بھی ماضی میں آتشزدگی کے ایک واقعے کے دوران کروڑوں روپے مالیت کے موبائل فونز اور ایکسریز جل کر خاکستر ہو گئی تھیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتالوں، کلینکس، بازاروں اور رہائشی و کمرشل پلازوں میں فائر سیفٹی انتظامات کی باقاعدہ انسپکشن کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کسی بڑے سانحے سے قبل مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔





