این ڈی یو میں افغان سفیر کی اوچھی حرکت: ثابت ہو گیا افغان طالبان ناقابلِ اعتماد اور دغاباز گروہ ہیں،ماہرین

Pakistan SCO Summit 2026

سوشل میڈیا پر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں افغان عبوری حکومت کے سفیر کے خطاب کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد ماہرین پاکستان کی افغان پالیسی سے متعلق پیدا ہونے والے ابہام پر حقائق سامنے لےآئیں ہیں۔

ماہرین کے مطابق این ڈی یو ایک اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی ادارہ ہے جہاں مختلف نقطہ ہائے نظر کا جائزہ لینے کے لیے دنیا بھر کے سفارت کاروں کو بطور مہمان مقرر مدعو کرنے کی روایت قائم ہے، جس میں ماضی میں بھارتی سفیر بھی شامل رہے ہیں۔ اس علمی سرگرمی کو پاکستان کی افغان پالیسی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔

ماہرین کے مطابق این ڈی یو کی تمام نشستیں اور لیکچرز بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ چیٹہم ہاؤس رول’ (Chatham House Rule) کے تحت منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس اصول کے تحت اندر ہونے والی گفتگو کو نام، عہدہ یا مقام ظاہر کیے بغیر صرف تعلیمی و علمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

افغان سفیر کی جانب سے اندر کی غیر قانونی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر جاری کرنا نہ صرف سفارتی اخلاقیات اور تعلیمی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس عمل سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ گروہ بین الاقوامی اصولوں، انسانیت اور اخلاقیات کی پرواہ کیے بغیر ناقابلِ اعتماد اور دغا دینے والا رویہ رکھتا ہے۔

افغان سفیر کے غیر قانونی حرکت کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی کچھ ہفتے پہلے کی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان میں اس وقت کوئی باقاعدہ یا نمائندہ حکومت قائم نہیں ہے بلکہ طالبان رجیم کا پورا معاشی، ریاستی اور سفارتی نظام صرف اور صرف دہشت گردی پر قائم ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان کے زیرِ تسلط علاقوں میں بنیادی کاروبار ہی دہشت گردی بن چکا ہے اور وہ اسی کے ذریعے اپنی معیشت، ریاست اور سفارت کاری کو سہار دیے ہوئے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا مذید کہنا ہے کہ کہ افغان طالبان اور بھارت کے درمیان اگر کوئی چیز مشترک ہے تو وہ صرف اور صرف دہشت گردی کا ڈی این اے ہے۔ ایک طرف ہندوستان اپنے آپ کو سیکولر اور نیشنلسٹ کہتا ہے تو دوسری طرف افغان رجیم خود کو انتہا پسند مذہبی گروہ ظاہر کرتی ہے، لیکن اس واضح نظریاتی تفریق کے باوجود دونوں ملک مل کر پاکستان کے خلاف کوآرڈینیٹڈ آپریشنز میں ملوث ہیں۔

انہوں نے افغانستان کی آبادیاتی ساخت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان محض ایک جغرافیائی خطہ ہے، جہاں کی آبادی کا 42 فیصد حصہ پشتونوں پر مشتمل ہے جبکہ باقی 58 فیصد میں تاجک، ازبک، ترکمین، ہزارہ اور دیگر اقوام شامل ہیں۔ اتنی کثیر القومی آبادی کے باوجود وہاں کوئی بھی جامع یا سب کو ساتھ لے کر چلنے والی (Inclusive) حکومت موجود نہیں ہے۔ افغان طالبان کا انتظامی ڈھانچہ ایک غیر قانونی اور غیر نمائندہ جھتہ ہے جو بندوق کی طاقت سے قابض ہے اور جس کا بنیادی مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top