انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) فورم کے 184ویں اجلاس میں وزیراعظم پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں ملک بھر کے امتحانی نظام میں بڑی اصلاحات کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
اجلاس کا بنیادی مقصد تعلیمی نظام کو رٹہ سسٹم (روٹ لرننگ) سے نکال کر تصوراتی تفہیم کی طرف منتقل کرنا اور پاکستانی اسناد کی بین الاقوامی سطح پر ساکھ کو مستحکم بنانا ہے۔
آئی بی سی سی کے اعلامیے کے مطابق نئی گریڈنگ پالیسی پر عملدرآمد کا آغاز ہو چکا ہے، جس کے تحت کم از کم پاسنگ مارکس کو 33 فیصد سے بڑھا کر 40فیصد کردیا گیا ہے۔ سندھ کے تمام امتحانی بورڈز، فیڈرل بورڈ، آزاد کشمیر بورڈ، قراقرم، آغا خان اور ضیاء الدین بورڈز نے اس نئی پالیسی کو نافذ کر دیا ہے۔ اس نظرثانی شدہ فارمولے سے آگاہی کے لیے جلد ملک گیر ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے گا۔
طلبہ کے ریکارڈ کی شفافیت اور تصدیق کو آسان بنانے کے لیے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی اسناد پر طالب علم کا ب فارم یا قومی شناختی کارڈ نمبر درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بورڈ ٹاپرز کو اسکالرشپس اور بیرونِ ملک تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے سمر اور ونٹر کیمپس بھی منعقد کیے جائیں گے۔
اجلاس میں مزید 12 دینی مدارس کی اسناد کو میٹرک اور انٹر کے مساوی قرار دینے کی سفارش کی گئی، جس کے بعد مساوی فریم ورک کے تحت دینی مدارس کی کل تعداد 26 ہو گئی ہے۔
غیر ملکی بورڈز کے ایسے طلبہ جنہوں نے کم از کم دو سائنس مضامین پاس کیے ہوں، انہیں سائنس گروپ کی ایکوی ویلنس دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ملک بھر میں تھیوری اور پریکٹیکل امتحانات کے لیے یکساں کیلنڈر کی تیاری اور پریکٹیکل کے لیے مشترکہ طریقہ کار پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اجلاس کے دوران کوہاٹ، کوئٹہ اور فیڈرل بورڈ کی جانب سے اپنے امتحانی نظام کی بہتری کے لیے کیے گئے اختراعی اقدامات پیش کیے گئے۔ ڈائریکٹر جنرل آئی بی سی سی محمد عثمان خان کی زیرِ نگرانی ہونے والے اس اجلاس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح اور نیشنل کوآرڈینیٹر عنایت اللہ وسیم نے پنجاب میں چیئرمینوں کی میرٹ پر تقرریوں اور سندھ میں ای مارکنگ کے آغاز کو امتحانی نظام کی شفافیت کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
غیر ملکی بورڈز کے طلبہ کو سہولت دیتے ہوئے دو سائنس مضامین پاس کرنے پر سائنس گروپ کی ایکوی ویلنس دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نیز ملک بھر میں تھیوری اور پریکٹیکل امتحانات کے لیے یکساں کیلنڈر کی تیاری اور پریکٹیکل امتحانات کی مشترکہ گائیڈ لائنز پر اتفاق کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سوات: 54 دن سے جاری ریسکیو آپریشن مکمل:کوہ پیما سید علی شاہ کی میت تحویل میں لے لی گئی
امتحانی شفافیت کے حوالے سے ای مارکنگ کے فروغ پر زور دیتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی سی سی ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا کہ امتحانی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کر کے بین الاقوامی معیار پر لانا ہی ان اصلاحات کا بنیادی مقصد ہے۔
انہوں نے پنجاب میں میرٹ پر بورڈ چیئرپرسنز کی تقرری اور سندھ کے تعلیمی بورڈز میں ای مارکنگ کے آغاز کو اہم پیش رفت قرار دیا۔





