آیت نور قتل کیس میں بڑی پیشرفت، پولیس تفتیش میں کوتاہی کا انکشاف ، دوبارہ تفتیش کی ہدایت

آیت نور قتل کیس میں بڑی پیشرفت، پولیس تفتیش میں کوتاہی کا انکشاف ، دوبارہ تفتیش کی ہدایت

Pakistan SCO Summit 2026

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ہری پور میں کمسن بچی آیت نور کے اغوا، زیادتی اور بہیمانہ قتل کے کیس میں پولیس کی سنگین غفلت اور کوتاہیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تفتیش نئی ٹیم کے سپرد کرنے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے۔

کمیٹی کے اجلاس میں کیس کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ رکن قومی اسمبلی بابر نواز نے دی، جس میں پولیس تحقیقات کے دوران ہولناک انکشافات سامنے آئے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ابتدائی دو روز تک بچی کے والدین کو پولیس کے سامنے اپنی ہی بیٹی کے والدین ہونے کا ثبوت دینے کے لیے تگ و دو کرنا پڑی، جبکہ ہری پور کی ایک خاتون ڈی ایس پی نے الٹا صدمے سے دوچار ماں پر ہی بچی کے قتل کا الزام عائد کر دیا۔

پولیس کی جانب سے بچی کے والد کے زبردستی دفعہ 164 کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے۔

رکن قومی اسمبلی نے انکشاف کیا کہ لواحقین کی جانب سے شدید احتجاج کے بعد انتظامیہ نے معاملے کو کچھ سنجیدہ لیا۔ مقتولہ آیت نور کی لاش واقعہ کے 15 ویں دن برآمد ہوئی، اور میڈیکل رپورٹ کے مطابق لاش سات دن پرانی تھی، جس سے یہ ہولناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ بچی اغوا کے بعد مبینہ طور پر پانچ دن تک کسی کنویں میں زندہ پڑی رہی۔

لاش ملنے کے بعد گورنر اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے فوری طور پر جائے وقوعہ کا دورہ کیا تھا۔

 یہ بھی پڑھیں: ہری پور آیت نور کیس: پولیس نے 5 ملزمان کی شناخت کرلی

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پولیس نے واقعے کے پندرہ دن بعد تین بچوں کو گرفتار تو کر لیا، تاہم یہ اب تک واضح نہیں ہو سکا کہ ان ملزمان کو کس بنیاد پر نامزد کیا گیا۔

گیارہ سالہ بچہ جو مبینہ طور پر بچی کو گھر سے لے کر نکلا تھا، اس نے بھی کبھی یہ بیان نہیں دیا کہ اس نے بچی کو کسی اور لڑکے کے حوالے کیا تھا۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top