اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی عدلیہ کی اولین ترجیح اور آئینی ذمہ داری ہے، نوجوان ججز اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں ادا کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں، جبکہ تمام ادارے اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیں۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عدلیہ پر عوام کا اعتماد وراثت میں نہیں ملتا بلکہ دیانتداری، شفافیت اور انصاف کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ عدالتی نظام میں اصلاحات کے لیے زمینی حقائق اور حقیقی مسائل کو سمجھنا ضروری ہے۔
اسلام آباد: ضلعی عدالتیں نظامِ انصاف میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، عدالتی نظام میں اصلاحات اور ضلعی سطح پر عوام کو فوری انصاف کی فراہمی پر قومی کانفرنس میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کا خطاب pic.twitter.com/L014cwA7Ct
— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) September 12, 2026
چیف جسٹس نے کہا کہ ضلعی عدالتیں نظام انصاف کی ریڑھ کی ہڈی اور انصاف کی فراہمی کا بنیادی ستون ہیں۔ ضلعی عدالتوں اور ہائیکورٹس کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ ضلعی عدلیہ کی کارکردگی اور استعداد بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مقدمات کے جلد فیصلوں اور التوا کے خاتمے کے لیے ضلعی عدالتوں کو ضروری وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انصاف کی فوری فراہمی کے لیے عملی اقدامات کا دائرہ بھی وسیع کیا گیا ہے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ عدالتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور عدالتی اصلاحات کے ذریعے مقدمات میں غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ کیا جائے گا۔ نظام انصاف میں ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مساوی اور مؤثر انصاف کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ عدلیہ کی آزادی، ادارہ جاتی مضبوطی اور عوام کا اعتماد ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ ججز کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کے لیے بہتر نظام اور سازگار ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شفیع جان مریم نواز پر تنقید سے پہلے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی کا حساب دیں، رحمت سلام خٹک
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ضلعی عدلیہ اور پالیسی ساز اداروں کے درمیان رابطے کا فقدان تھا، تاہم اب منصوبوں کی منظوری اور فنڈز کے اجرا کے لیے 21 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی کے مطابق ایکسیس ٹو جسٹس فنڈ کے تحت 20 سال کے دوران 90 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے، جبکہ صرف ایک سال میں بنیادی منصوبوں کے لیے 2.4 ارب روپے فراہم کیے گئے۔
چیف جسٹس نے بتایا کہ ضلعی عدلیہ کی جانب سے چار بنیادی ضروریات کی نشاندہی کی گئی، جن میں بجلی، انٹرنیٹ، خواتین کے لیے واش رومز اور صاف پانی شامل تھے۔ ان ضروریات کو پورا کرتے ہوئے ضلعی عدالتوں کو مذکورہ سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عدالتی افسران کی سہولیات اور شرائطِ ملازمت میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر کے عدالتی افسران کے لیے ہیلتھ انشورنس کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان کے مطابق عدالتی افسران پر بیرونی دباؤ کے خلاف باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، جبکہ انہیں بیرونی یا انتہا پسند عناصر کے دباؤ سے تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔





